اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 612 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 612

612 بات پر صرف چند منٹ ہی گذرے تھے کہ پھر تھوڑی سی غنودگی ہو کر یہ الہام ہوا انک انت المجاز یعنی تجھے شفاعت کی اجازت دی گئی تب میں نے بطور شفیع کے اس لڑکے کے حق میں دعا کی پس تھوڑے دنوں کے بعد خدا نے اس کو دوبارہ زندگی بخشی اور وہ تندرست ہو گیا فالحمد للہ علی ذالک۔مکرم میاں محمد عبد الرحمن صاحب بیان کرتے ہیں کہ مکرم میاں عبد الرحیم خاں صاحب کے متعلق حضرت اقدس نے یہ رویا بھی دیکھا تھا کہ وہ صحت یاب ہو گئے ہیں اور کچھ رو پید انہوں نے نذرانہ کے طور پر پیش کیا ہے۔چنانچہ اُن کے صحت یاب ہو جانے پر جب کہ ابھی انہیں نقاہت باقی تھی، نواب صاحب نے انہیں ان کی خالہ صاحبہ کے ہمراہ ایک خادمہ سے اُٹھوا کر حضور کی خدمت میں بھجوایا اور ڈیڑھ صد روپیہ کے قریب نذرانہ بھیجا۔گھر میں چوزہ کا شور با تیار تھا حضور نے چھوا کر میاں عبدالرحیم خاں صاحب کو پہلوایا۔میاں عبد الرحیم خاں صاحب کی شفایابی حضرت اقدس کی تو جہات کریمانہ کا ایک کرشمہ تھا اور اسی وجہ سے قادیان میں کسی قسم کی تکلیف نہ محسوس ہوتی تھی حالانکہ نواب صاحب اور آپ کے اہل وعیال مالیر کوٹلہ میں شہر میں جس حویلی میں رہتے تھے۔اس میں تہائی آپ کا حصہ دس بارہ بیگھہ ہوگا۔بعد میں آپ نے ریاست کو دے دیا تھا اور اب وہاں سرکاری دفاتر ہیں۔علاوہ ازیں آپ کے شہر کے پاس شہر سے باہر شیر وانی کوٹ تھا جو تریسٹھ بیگھہ میں ہے اور اس کی کوٹھی قادیان کی کوٹھی دار السلام سے بھی بڑی ہے۔اور حضور کی مشفقانہ تو جہات کے ذکر میں مکرم میاں محمد عبد اللہ خاں صاحب ذکر کرتے ہیں کہ جب قادیان میں طاعون شروع ہوئی تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف سے ہم بچوں کو یہ حکم تھا کہ ہم سیڑھیوں سے نیچے نہ اتریں کیونکہ یہ مکان دار میں شامل ہے ہو جس کے متعلق وعدہ الہی ہے کہ انسی احافظ كل من فی الدار۔اس لئے ہم ۱۴۲۴ سیڑھیوں سے نیچے نہیں اترتے تھے۔ہمارے مکان میں بھی حضور ڈھونیاں بہت دلواتے تھے۔ایک بڑی انگیٹھی تھی جس میں کئی دودکش تھے۔اتنی گرمی ہوتی تھی کہ جس سے سارا کمرہ گرم ہو جاتا تھا۔فینائل کا استعمال کثرت سے ہوتا تھا۔مراد چوبارہ حضرت نواب صاحب جو دار مسیح سے ملحق ہے اس بارہ میں حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب کا ایک تفصیلی نوٹ کتاب میں دوسری جگہ درج ہے۔بقیہ حاشیہ: - نہیں آیا۔اے احمد یوں تمہیں مبارک ہو کہ یہ دولت خدا تعالیٰ نے تمہارے حصہ میں رکھی تھی خدا کا شکر اور اس کی قدر کرو۔والسلام خاکسار عبدالکریم ۱۲۹ کتوبر ۳ الحکم جلد نمبر ۴۱ ۴۳ بابت ۱۷ تا ۲۴ نومبر ۶۰۳) خفیف سے اختلاف سے یہ نوٹ البدر جلد۲ نمبر ۴۱ ۴۲ ( صفحه (۳۲) ۲۶ /اکتوبر نومبر ۰۳ء میں بھی شائع ہوا ہے۔