اصحاب احمد (جلد 2) — Page 610
610 مرز ا عزیز احمد صاحب بھی شامل تھے۔اعلان نکاح کے بعد چھوہارے تقسیم کئے گئے اور حاضرین کو سادہ چائے یعنی بغیر کھانے کی کسی چیز کے پیش کی گئی۔میں اور میاں محمد عبد اللہ خاں صاحب والد صاحب کے سامنے بیٹھے تھے۔آپ نے ہماری صحت کے پیش نظر اشارہ سے ہمیں چھوہارے کھانے سے منع کر دیا لیکن میاں عبدالرحیم خاں صاحب ایک طرف تھے انہوں نے بہت سے چھوہارے کھالئے جس سے شدید بخار سے جو تپ محرقہ کی صورت اختیار کر گیا بیمار ہو گئے۔ان دنوں ہم والد صاحب کے تعمیر کردہ شہر کے کچے مکان میں رہتے تھے۔انکی بیماری دواڑھائی ماہ رہی۔میاں عبدالرحیم خاں صاحب موت کے منہ سے واپس آئے اور ان کی شفایابی معجزانہ رنگ میں ہوئی۔اس بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تحریر فرماتے ہیں: ۴۴ - چوالیسواں نشان یہ ہے کہ سردار نواب محمد علی خاں صاحب رئیس مالیر کوٹلہ کا لڑکا عبدالرحیم خاں ایک شدید محرقہ تپ کی بیماری سے بیمار ہو گیا تھا اور کوئی صورت جان بری کی دکھائی نہیں دیتی تھی۔گویا مردہ کے حکم میں تھا۔اس وقت میں نے اس کے لئے دعا کی تو معلوم ہوا کہ تقدیر مبرم کی طرح ہے۔تب میں نے جناب الہی میں عرض کی کہ یا الہی میں اس کے لئے شفاعت کرتا ہوں اس کے جواب میں خدا تعالیٰ نے فرمایا من ذالذى يشفع عنده الا باذنه یعنی کس کی مجال ہے کہ بغیر اذن الہی کے کسی کی شفاعت کر سکے۔تب میں خاموش ہو گیا بعد اس کے بغیر توقف کے یہ الہام ہوا انک انت المجاز یعنی تجھے شفاعت کرنے کی اجازت دی گئی۔تب میں نے بہت تضرع اور ابتہال سے دُعا کرنی شروع کی تو خدا تعالیٰ نے میری دُعا قبول فرمائی اور لڑکا گویا قبر میں سے نکل کر باہر آیا اور آثار صحت ظاہر ہوئے اور اس قدر لاغر ہو گیا تھا کہ مدت دراز کے بعد وہ اپنے اصلی بدن پر آیا اور تندرست ہو گیا اور زندہ موجود ہے، می حمد حقیقۃ الوحی ۲۱۹ ۲۲۰۔اس بارہ میں حضرت مولوی عبد الکریم صاحب تحریر فرماتے ہیں: مسئله شفاعت بہت صفائی سے حل ہو گیا۔”ہمارے مکرم خاں صاحب محمد علی خاں صاحب کا چھوٹا لڑکا عبدالرحیم سخت بیمار ہو گیا چودہ روز ایک ہی تپ لازم حال ( رہا ) اور اس پر جو اس میں فتور اور بیہوشی رہی آخر نوبت احتراق تک پہنچ گئی میرے مخدوم مکرم مولوی نورالدین صاحب فرماتے ہیں کہ عبدالرحیم کے علاج میں غیر مترقب توجہ انہیں پیدا ہوئی اور ان کے علم نے پوری اور وسیع طاقت سے کام لیا مگر ضعف اور بجز کا اعتراف کر کے بجز سپر انداز ہو جانے کے کوئی راہ نظر نہ آتی تھی۔حضرت خلیفۃ اللہ علیہ السلام کو ہر روز دعا کے لئے توجہ دلائی جاتی تھی اور وہ کرتے تھے۔۲۵ اکتوبر کو