اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 608 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 608

608 * اکابر سلسلہ احمدیہ مثل خواجہ کمال الدین۔شیخ رحمت اللہ۔ڈاکٹر محمد حسین شاہ ڈاکٹر یعقوب بیگ و مولوی محمد علی میرے مکان پر ا کٹھے ہوئے۔میں بھی حاضر تھا اور میاں محمود کو بھی تکلیف دی گئی۔خلیفہ کے متعلق مشورہ ہوا۔سب نے بالاتفاق حضرت مولانا مولوی نورالدین صاحب کو خلیفہ تجویز کیا اور میاں محمود صاحب نے بھی کشادہ پیشانی (سے) اس پر رضا مندی ظاہر کی بلکہ (کہا) کہ حضرت مولانا سے بڑھ کر کوئی نہیں اور خلیفہ ضرور ہونا چاہیئے اور حضرت مولانا ہی خلیفہ ہونے چاہئیں اور نہ اختلاف کا اندیشہ ہے اور حضرت اقدس کا ایک الہام ہے کہ اس جماعت کے دو گروہ ہونگے ایک کی طرف خدا ہوگا اور یہ پھوٹ کا ثمرہ ( ہے ) اس کے بعد ہم سب باغ گئے اور وہاں میر ناصر نواب صاحب سے دریافت کیا۔انہوں نے بھی حضرت مولانا کا خلیفہ ہونا پسند کیا اور اشارہ کیا کہ جس کو تم خلیفہ بنانا چاہتے ہو وہ بھی دو ڈھائی سال رہتا نظر آتا ( ہے ) اشارہ مولوی صاحب یعنی مولانا نورالدین صاحب سے تھا کیونکہ مولوی صاحب بیمار رہتے تھے یعنی بیماری اسہال کا دورہ سخت پڑتا تھا۔میر صاحب نے جو اشارہ کیا تھا کہ جس کو خلیفہ کرنا چاہتے ہو دو ڈھائی سال ہی رہے گا اسلئے تھا کہ میر صاحب سے صرف یہ کہا گیا تھا کہ کس کو خلیفہ کیا جائے نام نہ لیا تھا۔پھر خواجہ کمال (الدین) صاحب جماعت کی طرف سے حضرت ام المومنین کے پاس تشریف لے گئے انہوں نے کہا میں کسی کی محتاج نہیں اور نہ محتاج رہنا چاہتی ہوں جس پر قوم کا اطمینان ہے اس کو خلیفہ کیا جائے اور حضرت مولانا کی سب کے دل میں عزت ہے وہی خلیفہ ہونے چاہئیں۔اس کے بعد حضرت مولانا ( کو ) بھی تکلیف دی گئی۔حضرت مولانا (کے) ہاتھ پر ہم نے معہ فرزندان و میر صاحب قریباً بارہ سو آدمی نے باغ (کے) درختوں کے نیچے بیعت کی اس کے بعد ہم سب واپس آئے اور کھانا کھایا پھر نماز ظہر پڑھ کر تمام لوگ باغ میں جمع ہوئے اور نماز عصر پڑھ کر جنازہ پڑھایا گیا اور پھر حضرت مولانا نے ایک خطبہ پڑھا۔بیعت کے وقت اور خطبہ کے وقت عجیب نظارہ تھا۔کوئی آنکھ نہ تھی جو پر نم نہ تھی۔بعد خطبہ سب اس کے بعد دیگر حضرت اقدس کا چہرہ دیکھنے کے لئے گئے۔پھر اس کے بعد حضرت اقدس کا جنازہ قبر پر لے جایا گیا اور حضرت اقدس کے جسم ٹو رانی کو سپردخاک کیا۔یہ کوئی ساڑھے پانچ کا وقت تھا۔گرمی کا یہ عالم مگر جسم میں کس قسم کا فور نہ تھا۔چہرہ مبارک با لکل صاف تھا کسی قسم کی بے رونقی نہ تھی۔اس کے بعد ہم سب واپس آئے اور رات کو سور ہے۔شاہ کے بعد ڈائری میں صاحب کا لفظ نہیں جوالفضل میں درج ہے (مؤلف) * یعنی چونکہ میں کسی کی بفضلہ محتاج نہیں ہوں اس لئے میں اپنی ذاتی کسی فائدہ کی غرض سے رائے نہیں دونگی بلکہ میرے نزدیک جسے جماعت منتخب کرے وہی خلیفہ ہونا چاہیئے اور حضرت مولوی صاحب اس کے اہل بھی ہیں۔