اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 567 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 567

567 ۱۰ فروری ۱۹۰۲ء آج سیر میں دو امور حضرت اقدس نے فرمائے (۱) انبیاء کو بھی تدریجی ترقی ہوتی ہے (۲) بہشت دوزخ نیه حاشیه : -۳- حوالہ مذکورہ میں سے دسمبر ۰۵ء میں ان نمبر ۲ ،۳ کے الہامات کے بعد واخر دعوانا ان الحمد لله رب العلمین بھی مرقوم ہے۔۴۔جولائی ۱۹۰۶ ء میں ذیل کے الہامات ہوئے۔قرب اجلک القدر۔ان ذا العرش يدعون ولا نبقى لك من المخزيات ذكرًا - قل میعاد ربك ولا تبقى لک من المخزیات شیئا۔-۵ ۸ ستمبر ۱۹۰۶ء کا الہام ہے۔ربّ لا تُبق لى من المخزيات ذكرًا - -Y لد حضرت نواب صاحب بعض اوقات حضرت اقدس کے الہامات ورؤیا اپنی ڈائری میں قلم بند کرتے ہیں۔چونکہ ڈائری کی پرائیویٹ حیثیت تھی اور اس خاطر تحریر نہیں کی جاتی تھی کہ کبھی طبع کی جائے گی اس لئے آپ مجالس یا سیر میں الہامات وغیرہ کو نوٹ کر کے نہیں لاتے تھے جیسا کہ اخبارات کی خاطر ایڈیٹر صاحبان کرتے تھے اس لئے بعض اوقات نواب صاحب کے محررہ الہامات ور دیا میں بعض خامیاں رہ جاتی ہیں لیکن ایک نادر فائدہ بھی ہوتا ہے کہ بعض الہامات کی تاریخ نزول کی تعیین اس ڈائری سے ہوگئی ہے۔اور یہ تعیین کسی اور جگہ سے نہ ہو سکتی تھی۔اس فائدہ کے بالمقابل معمولی خامی قابل اعتناء نہیں۔آج کی ڈائری والے الہام میں دوخامیاں ہیں لیکن تذکرہ میں یہی الہام مواہب الرحمن صفحہ ۷ اسے نقل ہوا ہے اور محض نقل میں ایک خامی رہ گئی ہے یعنی فی کی بجائے من نقل کیا گیا ہے۔دوسرے ساتھ ہی ایک اور الہام درج ہے لیکن وہ تذکرہ میں کسی جگہ نقل نہیں کیا گیا یعنی یعصمک الله من عنده وهو الولى الرحمن نواب صاحب بسا اوقات ڈائری نویسی کے اوقات بھی ڈائری میں درج کر دیتے ہیں جن کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ اسی روز یا اگلے روز ڈائری تحریر کرتے تھے اس لئے ڈائری میں مندرجہ تاریخ ہر طرح قابل یقین ہے چونکہ مواہب الرحمن کی تصنیف ۱۹۰۳ء میں ہوئی اور ۱۴ جنوری ۱۹۰۳ء کو شائع ہوئی۔اس لئے اس الہام کی تاریخ اس کتاب سے منقول دیگر تمام الہامات کی طرح تذکرہ میں "مارجنوری ۱۹۰۳ء سے قبل‘ مرقوم ہے۔ایک اندرونی شہادت سے بھی نواب صاحب کی ڈائری میں مندرجہ تاریخ کی صحت پر روشنی پڑتی ہے۔اور وہ یہ کہ کشتی نوح پڑھ کر مصر کے اخبار اللواء کے ایڈیٹر نے اعتراض کیا کہ طاعون کے ٹیکہ کا ترک کرنا