اصحاب احمد (جلد 2) — Page 566
566 ۴ فروری ۱۹۰۲ء آج سیر میں بہت تھک گیا۔۷ فروری ۱۹۰۲ء آج دونوں استخارے ختم کوئی تفہیم خداوند تعالیٰ کی طرف سے اور رویا نہیں ہوئی۔میں نے فیصلہ بطور خود کیا کہ کمشنر صاحب کے آنے پر کوٹلہ نہ جاؤں گا۔I shall take Nawab Khan in my Service۔آگے اللہ کو علم ہے۔ابھی اگر مناسب ہوا تو بعض بزرگوں سے مشورہ ان امور میں کروں گا۔علم اللہ ہی کو ہے کہ کیا ہونا ہے۔سب پر اللہ کا ارادہ غالب ہے اور جو کچھ ہور ہے گا وہی بہتر ہوگا۔انشاء اللہ تعالی۔۸ فروری ۱۹۰۲ء آج بھی نماز صبح میں شریک نہ ہو سکا۔بعد نماز صبح بچوں کو پڑھایا۔آج کھانسی بہت چھڑی اور بعد کھانسی سینہ دکھنے لگا۔آج تمام دن سینہ دیکھتا رہا۔حضرت مولانا نے دوائی دی۔نماز ظہر وعصر کی جماعت شریک نہ ہوسکا۔آج حضرت اقدس کو مندرجہ ذیل الہام ہوا لم يبقَ لك فى المخزيات ذكرًا۔آج ڈاکے والوں کام اندیشہ ہوا۔باقی امور معمولی۔حمید الف- نشان ( x ) ہر عبارت ٹوٹتی ہے۔یہاں نقل مطابق اصل کی گئی ہے۔نیز اس فائدہ کی خاطر جس کا آگے ذکر آتا ہے اس روز کی ساری ڈائری نقل کی گئی ہے۔-1 ب- ڈائری میں مرقوم الہام اور اس سے ملتے جلتے الہام ذیل میں درج کئے جاتے ہیں۔ا۔خدا نے مجھ پر ظاہر فرمایا ہے کہ آخری حصہ زندگی کا یہی ہے جواب گزررہا ہے جیسا کہ عربی میں وحی الہی یہ ہے قرب اجلک المقدر ولا تبقى لك من المخزيات ذكرا۔۔۔۔۔اسی بناء پر اس نے مجھے توفیق دی کہ پنجم حصہ براہین احمدیہ شائع کیا جائے۔(براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ ۷ حاشیہ ) یہ کتاب ۱۹۰۵ء میں تصنیف ہوئی۔اور بدر جلد نمبر ۳۸ میں یہ الہام ۲۹ نومبر ۰۵ء میں مرقوم ہے۔-۲- بدر جلد نمبر ۳۸ و الحکم جلد 9 نمبر ۴۳ میں اوپر کے الہام کے ساتھ قل میعاد ربک ولانبقی لک من المخزيات شيئا بھی درج ہے۔اور تاریخ الہام ۶ دسمبر ۰۵ ء مرقوم ہے۔