اصحاب احمد (جلد 2) — Page 554
۲۱ / دسمبر ۱۹۰۱ء 554 آج صبح سے رات کو نو بجے تک پیمائش مکان مدرسہ کرتا رہا۔اور اس کو پورا ٹھیک کر دیا اور تمام کام ختم کر دیا اور پوری ہدایات لکھ دیں۔کل چلنا ہے۔جتنے دن میں کوٹلہ میں رہا وحشت، ہول دل لگا رہا۔طبیعت ایک دن بھی خوش نہیں رہی۔۲۲ / دسمبر ۱۹۰۱ء آج صبح سے تیاری میں بعد نماز و تلاوت قرآن لگا رہا۔معہ عیال واطفال روانہ ہوا۔کوئی چار بجے (شام) ریل روانہ ہوئی۔سالم گاڑی ریز روڈ تھی۔پھلور روزہ کھول کر کھانا کھایا۔ایک بجے رات امرتسر پہنچے۔۲۳ / دسمبر ۱۹۰۱ء ایک بجے ( رات) سے دس بجے ( صبح ) تک امرتسر میں ٹھہرے۔گاڑی چلنے کے قریب حضرت میر ناصر نواب صاحب ملے۔ساڑھے گیارہ بجے کے قریب بٹالہ پہنچے۔ویٹنگ روم میں ذرا دم لے کر قادیان کو روانہ ہوئے۔کوئی چار بجے (شام) قادیان پہنچے۔بٹالہ سے تھوڑی دور چل کرغوناں اور غوثاں کلاں اور مجھے خاں والا یکہ الٹ گیا۔مجھے خاں کے خفیف چوٹ آنکھ پر لگی۔باقی سب بچ گئے۔یہاں آکر نماز پڑھی۔اتنے ( میں ) روزہ کا وقت ہو گیا۔میں نے نماز مغرب جماعت کے ساتھ پڑھی۔حضرت جی بیماری کے سبب سے نہیں آسکے۔یہاں آتے ہی دل کو اطمینان ہو گیا۔ہول دل وغیرہ جاتا رہا۔۲۴ / دسمبر ۱۹۰۱ء صبح سیر کے لئے حضرت باہر آئے تو ان سے ملاقات ہوئی۔ایک عیسائی عبدالحق نام آیا ہوا تھا اس سے تمام راستہ تقریر ہوتی رہی۔یہ تقریر الحکم میں چھپے گی۔ی گزشتہ چند روز کی ڈائری سے ایک تو معین تاریخ نواب صاحب کی واپسی کی معلوم ہوئی۔دوسرے یہ بھی یقینی طور پر معلوم ہو گیا کہ نواب صاحب جب دسمبر ۱۹۰۱ء میں قادیان چلے آئے اور مدرسہ تعلیم الاسلام کا کام سنبھال لیا۔اس وقت ابھی مالیر کوٹلہ والا مدرسہ بھی جاری تھا جیسا کہ ہر دو مدارس کے لئے ایک قاعدہ کے تعلق میں ذکر کیا تھا۔