اصحاب احمد (جلد 2) — Page 11
11 حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ان کے متعلق فرماتے ہیں :۔" مجھے ایسے شخص کی خوش قسمتی پر رشک ہے جس کا ایسا صالح بیٹا ہو کہ باوجود بہم پہنچنے تمام اسباب اور وسائل غفلت اور عیاشی کے اپنے عنفوان جوانی میں ایسا پر ہیز گار ہو۔“ آپ کی تعلیم چھ سات سال کی عمر میں والد ماجد نے چیفس کالج میں (جو اس زمانہ میں روسائے پنجاب کے لڑکوں کے لئے انبالہ میں ہوتا تھا اور بعد میں لاہور میں منتقل ہو گیا ) بھیج دیا تھا۔ساتھ ملازم اور ا تالیق گھوڑے اور سواری کافی عملہ بھیجا گیا تھا۔جدائی والدین کو گوارا نہ تھی لیکن تعلیم کا خیال مقدم تھا۔وہاں تینوں بھائی اکٹھے نہایت شان وشوکت کے ساتھ رہتے تھے۔فرماتے تھے کہ جس قدر فراخی اور آرام ہمیں اس زمانہ میں محسوس ہوتا تھا بعد میں کبھی محسوس نہیں ہوا۔آپ کی ساڑھے سات سال کی عمر تھی کہ والد نے وفات پائی۔(نم) طرز تعلیم انبالہ تک تو نہایت ناقص تھی۔سالہا سال وہاں ضائع ہی ہوئے۔لاہور آن کر با قاعدگی ہوئی مگر بے قاعدہ تعلیم کا اثر باقی تھا۔یہاں کا فی ذلت محسوس ہوئی بمشکل کورٹ کھلنے تک میٹرک کا امتحان دیا جاسکا۔اس سے پہلے اُنہوں نے ولایت بیرسٹری کے لئے جانا چاہا تھا۔بہت اصرار کیا مگر کورٹ والوں نے مانا نہیں۔بہت بد دل سے ہو گئے۔پڑھنے میں دل لگانا ہی ترک کر دیا تھا۔چنانچہ میٹرک کے امتحان میں کامیاب نہ ہو سکے۔فرمایا کرتے تھے کہ وہ میرے لئے بہتر ہی ہوا۔ورنہ جیسی میری طبیعت ہے اگر اس کم عمری میں یورپ کا رنگ چڑھ جاتا تو مشکل سے ہی اُتر تا اور غالب تھا کہ مذہبی اثر بھی دل سے دُور ہو جاتا۔(ن ) بچپن میں اخلاق فاضلہ عزم۔قوم کیلئے غیرت وغیرہ فرماتے تھے سکول میں استادوں نے ہمیشہ مجھ سے عزت کا سلوک کیا۔میں باوقار طور پر الگ تھلگ رہتا تھا نہ کسی سے دوستانہ رکھتا۔نہ لڑکوں کے جھگڑوں میں پڑتا۔نہ قانون شکنی کرتا۔اس وجہ سے شکایت کا موقعہ ہی نہ آتا تھا۔کسی لڑکے پر خاص طور پر کسی مسلمان لڑکے پر کبھی بے وجہ زیادتی ہوئی تو ایسا بھی ہوا کہ اس کے لئے میں استادوں بلکہ کالج کے گورنر تک سے جھگڑ پڑا۔اور بالاخر اکثر دفعہ انہیں میری بات ہی مانی پڑی۔(ن) فرماتے تھے کہ بچپن میں ہی میری طبیعت میں عزم تھا۔جس بات کو درست سمجھتا تھا اس پر پورے طور پر قائم رہتا۔اور کسی استاد کے کہنے سے ہلتا نہیں تھا۔ایک دفعہ ایک استاد نے طمانچہ مارا۔میں اس طرح بیٹھا