اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 546 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 546

546 ۳۹۹ ۳۹۸ حضرت گفتگو فرماتے رہے۔گاؤں کے قریب آکر حضرت اقدس ( نے ) مبارکہ کے متعلق رؤیا بیان کی کہ ہم نے دیکھا کوئی شخص کہتا ہے کہ نواب مبارکہ بیگم اور پھر حضرت نے ایک اپنا پرانا خواب بیان فرمایا کہ ہم نے خواب میں دیکھا کہ ایک تلوار ہمارے ہاتھ میں ہے اور جب ہم اس کو دائیں طرف چلاتے ہیں تو بہت سے آدمی دائیں طرف کٹ جاتے ہیں اور جب بائیں طرف چلاتے ہیں تو بائیں طرف کٹ جاتے ہیں تو رویا میں یہ خواب ہم نے مولوی عبد اللہ صاحب غزنوی کو سنایا ہے تو انہوں (نے ) فرمایا کہ تمہارے ہاتھ سے بڑا عظیم الشان دینی کام ہوگا اور جب میں زندہ تھا تو میں اس کا امیدوار تھا کہ کوئی ایسا شخص پیدا ہو۔مولوی نورالدین صاحب کے مطب کے سامنے سیر بعد جب آکر کھڑے ہوئے تو حضرت اقدس نے بی بی صاحبہ کا ایک خواب بیان فرمایا کہ انہوں نے) خواب دیکھا ہے کہ ظہر کا وقت ہے اور تم (حضرت اقدس ) تشریف لائے ہو اور تمہارے پاس انگور سردہ وغیرہ تھے اور آپ نے فرمایا کہ یہ ہمارے بھائی عبد القاد** صاحب نے بھیجے ہیں اور وہ آئے ہیں تو میں نے کہا (بی بی صاحبہ ) کہ ان کا تعلق تو دوسرے گھر کے ساتھ ہے تو آپ نے فرمایا کہ نہیں وہ اترے یہاں ہی ہیں پھر اس کے بعد کہا کہ رحمت اللہ * ( جو ایک معتمد ہمارے ہاں تھے ) تو صرف خاص یہاں کے لئے آیا ہے اور مرزا غلام قادر صاحب دونوں گھروں کو دیکھنے آئے ہیں۔اس کے بعد منظور لڑکا فیاض علی کا بھائی کچھ کپڑے گٹھڑی میں ہیں دوسرے گھروں میں لے گیا ہے * ان کو کھولا تو اس میں چھینٹ سی ہے جس کی زمین سفید ، پھول سیاہ ہیں لیکن اتنے میں اور بہت سا سامان مرزا صاحب موصوف نے بھیجا ہے جو اس گھر کے لئے ہے تو ہم نے سمجھا کہ پہلے بھی اسباب ہمارے لئے ہے لڑکا غلطی سے لے ی اس خط کا ذکر ۱۹ نومبرا ۱۹۰ ء کے ملفوظات میں الحکم جلد نمبر ۴۴ صفحہ۲ کا لمس میں درج ہے۔یہ پرچہ مذکورہ صفحہ ۳ کالم ۳ میں درج ہے۔مراد مرز اغلام قادر صاحب (مؤلف) * مکرم عرفانی صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ ** یہ حضرت کے رشتہ داروں ہی میں سے تھا۔پورا نام مرزا رحمت اللہ بیگ تھا۔یہ رؤیا الحکم جلد ۵ نمبر ۴۴ صفحہ ۳ کالم ۲ میں درج ہے۔وہاں مرقوم ہے کہ رحمت اللہ حضرت اقدس کے والد کا مختار تھا۔“ پیر سراج الحق صاحب کی رؤیا جس کا آگے ذکر آتا ہے۔وہ بھی کالم ۳ میں مرقوم ہے۔** مراد شیخ منظور علی صاحب شاکر مرحوم برادر ڈاکٹر فیاض علی صاحب مرحوم رضی اللہ عنہما( دیکھئے ڈائری نواب صاحب بابت ۲۲ نومبر )