اصحاب احمد (جلد 2) — Page 530
530 تشریف لائے اور قریباً آٹھ بجے تک بیٹھے رہے صاحب نو مسلم بھی تھے۔آج بھی استخارہ کیا۔صبح میں نے حضرت سے سوال کیا کہ حدیث میں دین العجائز ہے اور قرآن شریف میں جابجا عقل کی طرف بڑی توجہ دلائی جاتی ہے۔اس کی تطبیق کس طرح ہو سکتی ہے۔فرمایا دین العجائز ہر ایک کے لئے نہیں بلکہ انسانوں بقیہ حاشیہ : - بیاہی گئی تھی۔وہ قسطنطنیہ میں ڈاکٹر تھے جو جنگ روم روس میں چلے گئے تھے۔مکرم مرزا غلام اللہ رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ تھے۔یہی وہ مرزا اعظم بیگ ہیں جنہوں نے قادیان جائیداد خریدی۔اور جس کے پڑپوتے مرزا اکرم بیگ سے اور کچھ اس کے باپ مرزا افضل بیگ سے خریدی۔پہلا سودا مرزا افضل بیگ سے خاکسارعرفانی کے توسط سے ہوا تھا۔اس نے مجھے پانچ گھماؤں زمین دی میں نے اسے انجمن کے نام پر ہی جبہ کرا دیا۔میرا خیال ہے کہ ( نبیرہ) مرزا اعظم بیگ سے مراد مرزا اسلم بیگ ہے۔جو کچھ دنوں چیفس کالج میں داخل ہوا تھا۔اس کا بھائی مرزا احسن بیگ سلسلہ میں داخل ہے اور مرزا ارشد بیگ خود بھی اور اس کا خاندان داخل سلسلہ ہے۔“ مکرم بھائی عبد الرحمن صاحب تحریر فرماتے ہیں۔وو مرزا اسلم بیگ صاحب احمدی نہ تھے عرصہ ہوا فوت ہو چکے ہیں۔انڈیمان میں کمشنر یا اسٹنٹ کمشنر رہ چکے تھے۔مرزا ارشد بیگ صاحب فوت ہو چکے ہیں۔محترمہ محمدی بیگم صاحبہ کی دو ہمشیرگان مرزا احسن بیگ صاحب اور مرزا ارشد بیگ صاحب سے بیاہی گئی تھیں۔مرزا احسن بیگ صاحب رئیس کامنہ کوٹہ (Kotah) راجستھان بفضلہ تعالیٰ زندہ ہیں۔حضرت اقدس آپ کو بہت عزیز جانتے تھے۔چنانچہ حضور نے ان کی خاطر مجھے ان کے پاس کو نہ بھیج دیا تھا۔جب میں آنے کا ارادہ کرتا مرزا صاحب حضور کی خدمت میں تحریر کر دیتے اور حضور مجھے و ہیں ٹھہر جانے کا حکم دے دیتے۔آخر کئی سال بعد ایک دفعہ شکار میں زخمی ہوا تو واپسی ہوئی۔میں نے مرزا صاحب کو حضور کے ہمراہ بٹالہ کے سفر میں رتھ میں سوار دیکھا ہے۔۲-۸-۱۸ کومرزا صاحب کی طرف سے درخواست بیعت پر حضرت اقدس کی تقریر کا ذکر الحکم بابت ۰۲-۸-۲۴ صفحہ ۹ پر ہے۔پر چہ ۰۲-۸-۳۱ صفحہ پر مرقوم ہے۔دوسرا نام جو ہم خصوصیت سے ذکر کرنا چاہتے ہیں وہ ہمارے عزیز مرزا احسن بیگ صاحب کا نام ہے۔۔۔۔مرزا احسن بیگ مرزا اعظم بیگ رئیس لاہور کے نبیرہ ہیں اور ڈاکٹر مرزا اکبر بیگ کے بیٹے۔مرزا احسن بیگ کے بزرگ اس سلسلہ سے کوئی تعلق نہیں رکھتے۔مگر خدا تعالیٰ نے اس نوجوان کو توفیق دی کہ وہ حضرت مسیح موعود کے خادموں میں شریک ہونے کا فخر حاصل کرے۔راقم مؤلف سے بھی ان کی خط و کتابت ہے۔