اصحاب احمد (جلد 2) — Page 516
516 مجھے کس قدر رنج و غم ہو سکتا ہے؟ یہ سلسلہ ایک نبی کا سلسلہ ہے معمولی پیروں کا سلسلہ نہیں اس لئے محض اپنی رائے خام کیا چیز ہے؟ پس میرا جو تعلق ہے اس کا بہت بڑا پہلے تو سلسلہ سے تعلق اور دیوانہ واراحمد بیت کا شیدا ہونا ہے پھر جو کچھ میں تم سے متوقع ہوں وہ یہی کہ شریعت اسلام نے جو حکم فرمایا ہے کہ ماں باپ سے کہ یہ برتاؤ وہ برتاؤ چاہتا ہوں اور شریعت کی پابندی میری آرزو اور مقصد ہے اب میں بھی مرنے کے قریب ہوں ابراہیم اور یعقوب نے موت کے وقت اپنی اولاد کو کہا کہ يُبَنِي فَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَانْتُمْ مُسْلِمُونَ - یعنی اے بیٹو ایسی حالت میں نہ مرنا کہ تم فرمانبردار نہ ہو۔وہی میری وصیت۔پس میری تو یہی ناراضگی ہے۔پس کسی فرصت کے وقت میں بعض سوالات میں لکھوں گا ان کا حلفیہ جواب تمہاری طرف ( سے )جب صحیح ملے گا تو میری طرف سے ایک حد تک معافی ہوگی اور پھر دیکھنا ہے عمل اس کے مطابق بھی ہے کہ نہیں۔کیونکہ عمل کے بغیر معافی محض انگریزی معافی ہوتی ہے I am Sorry I beg your۔pardon جس کا کوئی بھی دل سے تعلق نہیں ہوتا۔پس بہتر ہے کہ بار بار کی ناراضگی سے ایک دفعہ ہی ناراضگی رہے۔پھر اگر میری طرف سے معافی بھی ہو جائے تو اگر سلسلہ کو تم مشتبہ نظر آؤ تو پھر میرا تعلق نہیں ہوسکتا۔کیونکہ اگر میں چاہوں بھی تب بھی میں تعلق نہیں رکھ سکتا۔تم چاہتے ہو کہ میں دنیا سے الگ تھلگ رہتا ہوں اس لئے میرا سلسلہ واقفیت نہایت محدود بلکہ نہیں۔تمہاری تعلیم ولایت اور تمہاری ملازمت وغیر ہا سب حضرت خلیفہ اسیح علیہ السلام کی مرہون منت ہے۔پس جب ان کی نظر میں مشتبہ ہو گئے تو میری تحریر کا اثر کسی احمدی پر نہیں ہوسکتا۔پس تم حضرت سے صفائی کرو اور حضرت سے سفارش کراؤ۔ان کے حکم سے کوئی سرتابی نہیں کر سکتا۔پس ( بجائے ) مجھے بار ( بار ) لکھنے کے ان کو لکھو اور انہی سے سفارش کراؤ میرے لکھنے سے کچھ نہ ہوگا اور موجودہ حالات میں میں کوئی جرات نہیں کرسکتا۔پس اگر حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے وعدہ کیا ہے تو ان سے تحریک کر اؤ پس یہی سیدھی راہ ہے ورنہ کسی احمدی سے امید نہ رکھو۔راقم محمد علی خاں اسلامی تعلیم کے مطابق نہ صرف اپنوں سے بلکہ غیروں سے بھی حسن سلوک ضروری ہے اور الْبُغْضُ اللہ کا مطلب یہ ہے کہ ان کے افعال شنیعہ کو نا پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا جائے تا ایک طرف اعمال حسنہ کا احترام واجبی قلب سے محو نہ ہونے پائے دوسری طرف ایسے لوگوں کی اصلاح کے لئے عملاً سعی و کوشش مدنظر رہے۔ایک ہندو استاد سے حسن سلوک کا ذکر گزشتہ صفحات میں ہو چکا ہے۔مزید مکرم مرزا عبدالغنی