اصحاب احمد (جلد 2) — Page 508
508 تھے۔آپ کو احمدیت جس قدر عزیز بھی وہ اس امر سے ظاہر ہے کہ مسماۃ غوناں مرحومہ مالیر کوٹلہ کی ایک گوجر بقیہ حاشیہ: - جواباً عرض ہے کہ آپ مطمئن رہیں کہ مجھے اس کا کوئی رنج نہیں۔ان باتوں کے سننے کے ہم لوگ عادی ہیں۔ہاں اس پیام سے مجھے آپ سے نصف ملاقات کا موقعہ مل گیا۔فالحمد اللہ علی ذالک۔مرزا صاحب ! اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول محمد مصطفے کے ذریعہ اپنی کتاب ہماری ہدایت کے لئے بھیجی اور اس کی حفاظت اپنے ذمہ رکھی یہ اس کا بڑا فضل اور احسان ہے۔آج دنیا میں کوئی کسی مذہب کی کتاب محفوظ نہیں۔مگر افسوس اس کتاب پر مسلمانوں نے عملدرآمد چھوڑ دیا۔اس کو طوطے کی طرح پڑھنے والے بہت ہیں۔مگر اس پر تدبر کرنے والے اور عقل سے کام لینے والے اور عمل کرنے والے بہت تھوڑے ہیں۔اسی لئے مسلمانوں پراد بار کا نزول ہے۔اس کتاب حکیم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب تمہارے پاس کوئی خبر آئے تو اس کی تحقیقات کرلیا کرو۔پس آپ کسی معتبر سے پوچھ لیتے یا لدھیانہ دور نہ تھا مجھ سے خط کے ذریعہ دریافت کر لیتے یا مجھ سے مل کر دریافت کر لیتے اور دوبارہ کا لطف بھی قند مکرر ہو جاتا۔یہ غلطی آپ سے قرآن شریف کے حکم کی عدم واقفیت یا عدم عملدرآمد سے ہوئی اس لئے مجھے رنج کی کوئی بات نہیں ہاں چونکہ خداوند تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی ہوئی ہے اس لئے اسی کے سامنے اظہار ندامت ہونی چاہئے اور استغفار ورنہ میں کیا بدتر آنم که خواهی گفت آنی و لیکن عیب من چون من ندانی اب چونکہ چل پڑی تو سن لیجئے کہ میرا ایسے خاندان سے تعلق ہے جس کی آمدنی مستقل ہے اور کسی کی خوشامد سے روٹی کمانے کی ضرورت نہیں اس لئے یہ سوال پیدا ہی نہیں ہوسکتا کہ میں نے کوئی مذہب روپیہ کے لالچ سے اختیار کیا۔ہمارا خاندان شیعیت ہے یا تھا کیونکہ دادا صاحب شیعہ ہوئے اور والد صاحب اور ہم پانچوں بھائی شیعہ تھے میں نے شیعیت ترک کر دی اور دو چھوٹے بھائی متذبذب اور آخر شیعیت چھوڑ بیٹھے مگر دو بڑے بھائی مرتے دم تک شیعہ رہے اور اب میرے بھتیجے خان محمد احسان علی خاں صاحب شیعہ ہیں۔میری طبیعت آزاد واقع ہوئی ہے اور حق کے مقابلہ میں مجھے کوئی چیز روک نہیں سکتی۔میں اس لئے مسلمان نہیں ہوں کہ چونکہ میں مسلمانوں کے گھر پیدا ہوا بلکہ میں شیعیت، وہابیت، نیچریت ، دہریت اور پھر ایک حد تک دو مذاہب عیسائیت اور ہندویت وغیرہ پر بھی غور کیا اور مجھے آخر تسکین اور پناہ اسلام میں ملی ہے اور میں ( نے ) خدا کو اس کے رسول محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اور قرآن شریف کو دلائل بینہ سے مانا ہے اور اسلام میں تمام فرق پر غور کر کے حضرت مرزا غلام احمد صاحب کو مسیح موعود اور مہدی مسعود تسلیم کیا ہے