اصحاب احمد (جلد 2) — Page 505
505 تھی تو مجھے حیرت ہوتی ہے کہ وہ آخر کیا دل لے کر پیدا ہوئے تھے۔اتنی زندہ دلی اور بشاشت کسی لڑکے میں بھی نظر نہیں آتی جس کے حصہ میں ان سے دسواں حصہ بھی افکار نہیں آئے۔“ یہ ذکر ہو چکا ہے کہ نواب صاحب کس درجہ کے عفت پسند تھے اور زمانہ کے مفاسد کے باعث پردہ کی حد درجہ پابندی کے حامی تھے۔عصمت و عفاف کی حفاظت کے تعلق میں خادمات کی بھی کڑی نگرانی کروا کے اپنی کامل فرض شناسی کا ثبوت دیتے تھے۔اور اس امر کو اپنے اولین فرائض میں شمار کرتے تھے۔چنانچہ آپ کے اپنے ایک بھائی کے نام مکتوب کے اقتباس کا اندراج از بس مفید ہوگا۔اس سے آپ کی دین سے محبت کے جذ بہ اور مقام صبر و توکل پر بھی روشنی پڑتی ہے۔آپ تحریر فرماتے ہیں۔مجھ کو اپنی بیوی کا مرنا زیادہ رنج کا موجب نہ ہوا۔(۱) یہ بات تھی کہ خداوند تعالیٰ نے ان کی صحت ہی کی حالت میں میرے دل میں یہاں تک ڈال دیا کہ مجھ کو یقین بے اختیاری ہو گیا تھا کہ اس دفعہ یہ زندہ نہ رہیں گی۔اور اس لئے ان کی موت میرے لئے کوئی مرگ مفاجات نہ ہوئی گوتین دن کے اندر خاتمہ ہو گیا۔(۲) مذہب کی ڈور ہاتھ میں تھی دل کو فورا تسلی ہوگئی کہ خداوند تعالیٰ نے اتنی ہی عمران کی رکھی تھی۔آخر اپنے اپنے وقت پر سب نے مرنا ہے اور ان کا یہ وقت تھا جو آ گیا۔پس اب بجائے رنج کے ان کے لئے مغفرت کا سامان کرنا چاہئے۔چنانچہ میں نے ان دنوں میں اور اب جب موقع لگتا ہے ان کے لئے دعا کرتا ہوں۔آپ خیال کر سکتے ہیں کہ دس سال کا مونس یک لخت الگ ہو گیا مگر دل پر ایسا کوئی صدمہ نہ پڑا جو میرے حواس پر کوئی اثر ڈالتا کیونکہ خداوند تعالیٰ نے مذہب کی ڈور پکڑائی ہوئی تھی۔(۳) جب یہ حادثہ ہوا تو قرآن میں میں نے پڑھا ہوا تھا کہ هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَأَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ۔یعنی وہ عورتیں تمہارے لباس اور پردہ ہیں اور تم ان کا لباس اور پردہ ہو۔تو میری حالت ایسی ہوئی کہ میں جب اپنے پر خیال کرتا تھا تو مجھ کو اپنا آپ عریاں معلوم ہوتا تھا۔اور اس حالت نے فوراً مجھ کو مجبور کیا کہ میں جلد دوسرا نکاح کرلوں۔نکاح کا کرنا تھا کہ وہ غم بالکل جاتا رہا۔گو اب تک کسی وقت پرانے مونس کی یاد ستاتی ہے وہی خداوند تعالیٰ پر بھروسہ اس کو دور کر دیتا ہے۔مگر چونکہ آپ کے پاس یہ دوا نہیں ہے اس لئے آپ کو یہ صدمہ اچانک معلوم ہوا۔دوسرے، مذہب سا کوئی تسلی دہندہ نہ تھا اور نہ اب مذہبی مجبوریاں آپ کو جلد نکاح پر آمادہ کر سکتی ہیں۔تو اب دل کی دھڑکن کم ہو تو کس طرح ؟ ہمارا ایمان تو یہ ہے کہ ایسے صدمات انسان کو جگانے کے لئے ہوتے ہیں تا کہ وہ دنیا کی بے ثباتی پر غور کر کے اپنی اصلاح حال کرے۔اور اگلے جہاں کی تیاری کے لئے تیار ہو۔ان گروں کو ہم کو اس امام زماں نے بتلایا ہے جس نے بلند آواز سے کہہ دیا کہ دنیا میں ایک نذیر آیا اور اس نے