اصحاب احمد (جلد 2) — Page 501
501 ہیں۔اس نے یہ خیال اس لئے کیا کہ آپ کو جائیداد کی ضروریات سے مجبور ہوکر مالیر کوٹلہ میں لمبے عرصہ کے لئے قیام کرنا پڑا تھا۔آپ نے اسے صرف یہ مختصر جواب دیا کہ آپ کا خط ملا میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے نہ ماننے والے کو کا فرسمجھتا ہوں۔مکرم چوہدری نور احمد خاں صاحب پنشتر کارکن صدرا انجمن احمدیہ کے ذیل کے بیان سے ظاہر ہے کہ حضرت نواب صاحب فَاصْبَحْتُم بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا کے رنگ میں رنگین ہو کر احمدیوں کے دکھ درد میں کہاں تک شریک ہوتے تھے۔چوہدری صاحب بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ اثنائے گفتگو میں پرانے صحابہ محترم چوہدری نواب خاں صاحب تحصیل دار سکنہ ہریانہ ضلع ہوشیار پور کا ذکر آ گیا تو نواب صاحب نے فرمایا کہ مجھے ان سے بہت محبت تھی۔جب بھی وہ قادیان آتے تھے میرے ہاں ٹھہر تے تھے۔ایک دفعہ انہوں نے مجھ سے ذکر کیا کہ لڑکی جوان ہوگئی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا فتویٰ ہے کہ لڑکیوں کا رشتہ غیر احمد یوں میں نہ کیا جائے۔مشکل یہ ہے کہ ہمارا رواج راجپوتوں میں رشتہ کرنے کا ہے۔اور یہ فکر میرے دامن گیر ہے۔میں نے ان کو کہا کہ راجپوتوں میں ہی آپ کی لڑکی کے لئے رشتہ کی تلاش کی جائے گی۔اگران میں سے رشتہ میسر نہ آیا تو میں اپنے تینوں لڑکوں میں سے ایک آپ کے سپر د کر دوں گا۔آپ کسی قسم کا فکر نہ کریں۔میں آپ کی لڑکی کی شادی اپنی لڑکی سمجھ کر کروں گا۔لیکن چوہدری نواب خاں صاحب نے کچھ عرصہ کے بعد لڑ کی کی شادی اپنے غیر احمدی بھانجے کے ساتھ کر دی اور اس شرمندگی کی وجہ سے پھر قادیان نہ آئے اور غیر مبایعین کے ساتھ شامل ہو گئے۔صبر واستقامت۔تو کل اور عفاف سورہ العصر میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو لوگ تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ لا وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ پرعمل پیرا ہوتے ہیں صرف وہی خاسرو خائب ہونے سے محفوظ رہتے ہیں۔اور دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے إِنَّ الَّذِينَ ٣٧٠٠ قَالُوا رَبُّنَ اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلَ عَلَيْهِمُ الْمَلَئِكَةُ إِلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ۔جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لا کر استقامت کا شعار اختیار کرتے ہیں ان پر ملائکہ کا نزول ہوتا ہے۔جو اطمینان وسکیت پیدا کرتے ہیں اور صبر و استقامت فلاح کی کلید ہے۔صبر و استقامت کے اعلیٰ مقام پر حضرت نواب صاحب فائز تھے۔جن حالات میں آپ نے احمدیت قبول کی اور شجاعت سے اس کا اظہار کیا یہ آپ ہی کا حصہ تھا۔ورنہ شاذونادر ہی لوگ ایسے صبر واستقامت اور شجاعت کا اظہار کرتے ہیں۔حضرت اقدس کی طرف سے تربیت کا ایک جزو یہ تھا کہ نواب صاحب کو ہمیشہ صبر واستقامت کی تلقین فرماتے تھے۔چنانچہ ایک مکتوب میں تحریر