اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 495 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 495

495 که صد را انجمن احمد یہ اور انجمن ترقی اسلام کی مدات مقروض ہوگئی ہیں اور یہ قرض اتر نہیں سکتا جب تک کہ کوئی وفد با ہر نکل کر خاص کوشش کر کے رقم کثیر جمع نہ کرے اور جماعت پر واضح کیا گیا کہ وفد میں بزرگوں کو ہی شامل کیا جا سکتا ہے۔اور وہ پہلے ہی ضروری خدمات دینیہ میں مصروف ہیں۔دوسرے وفد کا دورہ بھی اخراجات کئے بغیر ممکن نہیں۔اس لئے احباب اس چٹھی کو ہی وفد کا قائم مقام سمجھیں اور کثیر رقم بھجوا ئیں۔اس کے مخاطب ہندوستان ، افریقہ اور دیگر تمام مقامات کے احمدی ہیں۔یہ اعلان نواب صاحب ، مولوی شیر علی صاحب اور ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب رضی اللہ عنہم کی طرف سے ہوا تھا۔0 ۳۶۵ ط - اجنوری سے ۱۳ مارچ ۱۹۱۸ ء تک آپ صدرانجمن کے میر مجلس تھے۔غیبت سے نفرت۔صاف گوئی۔جرات۔بزرگوں کی قدر آپ کے اخلاق فاضلہ کا نمایاں پہلو یہ امر تھا کہ نہ آپ کسی پر اعتراض کرتے اور کسی کا شکوہ کرتے نہ اسے پسند کرتے۔نہ غیبت کرتے اور نہ سنتے۔آپ کے سامنے کسی کے خلاف بات کرنے کی کسی کو مجال کم ہی ہوتی تھی۔ادب اور حفظ مراتب کے بیحد پابند تھے۔اور اکثر اپنی اولاد اور دوسروں کو اس کی تلقین کرتے تھے۔یہ سب کچھ نفس کی کسی کمزوری کے سبب نہ تھا۔مکرم ملک غلام فرید صاحب ایم۔اے ربوہ سے تحریر فرماتے ہیں کہ نواب صاحب ایک شیر مومن تھے۔جس بات کو درست سمجھتے تھے وہی کہتے تھے وہی کرتے تھے۔یہ بات نہیں کہ یونہی کسی ذاتی خیال پر اڑ جاتے تھے۔بلکہ ایسے امور کے متعلق ہی ان کی شدت ہوتی تھی جو ان کے مطالعہ کے مطابق آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت سے ثابت ہوتے تھے۔ایک دفعہ پردہ کی شدت کے متعلق مجھے فرمایا کہ لوگ کہتے ہیں کہ میں پردہ کے متعلق اتنا سخت کیوں ہوں اس کی وجہ یہ ہے کہ میں ایک امیر خاندان سے تعلق رکھتا ہوں اور مجھے خوب علم ہے کہ امراء میں کتنا گند ہوتا ہے۔آپ کے کیرکٹر کے دو پہلو بہت نمایاں تھے۔آپ بڑے عبادت گزار اور بڑے سخی تھے۔کثرت سے صدقات کرتے تھے۔ایک طرف اتنے عاجز ومنکسر المزاج کہ میں نے کئی دفعہ مسجد میں ان کو جوتیوں میں نماز پڑھتے دیکھا اور دوسری طرف اپنی بات پر اتنے اڑ جانے والے کہ جس دن میاں محمد عبد اللہ خاں صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ کی