اصحاب احمد (جلد 2) — Page 488
488 لئے سعادت دارین کا موجب ہو۔دوم۔میں نے اپنے بھائی کو حضور کے حکم کے بموجب خط لکھا ہے۔حضور ملاحظہ فرمالیں اگر یہ درست ہو تو بھیج دوں۔حضور نے جوا با تحریر فرمایا کہ را قم محمد علی خاں السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ - حضرت مولوی صاحب کی نسبت مجھے کچھ عذر نہیں۔واقعی لنگر خانہ کے لوگ ایک طرف تاکید کی جائے دوسری طرف پھر غافل ہو جاتے ہیں۔کثرت آمد مہمانوں کی طرف سے بعض اوقات دیوانے کی طرح ہو جاتے ہیں۔اگر آپ سے عمدہ طور سے انتظام ہو سکے تو میں خوش ہوں۔اور موجب ثواب۔خط آپ نے بہت عمدہ لکھا ہے مگر ساتھ لکھتے وقت ترتیب اوراق کا لحاظ نہیں رہا خط۔۔۔۔پڑھتے جب دوسرے صفحہ میں میں پہنچا تو وہ عبارت پہلے صفحہ سے ملتی نہیں تھی۔اس کو درست کر دیا جائے۔والسلام مرزا غلام احمد ۳۵۸ چنانچہ حضرت مولوی صاحب کے وصال تک نواب صاحب کی طرف سے یہ التزام رہا کہ اعلیٰ درجہ کا کھانا دونوں وقت آپ کی خدمت میں نواب صاحب کے ہاں سے آتا رہا۔کب سے شروع ہوا اس بارہ میں حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ فرماتی ہیں کہ انداز ۱۹۰۶ء کا آخر یا ۱۹۰۷ ء کا شروع ہوگا۔جب حضرت خلیفہ اول کو کھانا بھجوانا شروع کیا۔کیونکہ جب میں حضرت خلیفہ اول سے پڑھا کرتی تھی تو کھانا آیا کرتا تھا۔حضرت مولوی صاحب نواب صاحب کی اس قلبی محبت سے آگاہ تھے۔اور دل سے قدر فرماتے تھے۔چنانچہ مکرم میاں محمد عبد الرحمن خاں صاحب بیان فرماتے ہیں کہ مجھ سے فرمایا کرتے تھے کہ میاں ! مجھے تمہارے والد سے بہت محبت ہے۔میں تو ان کو اپنا دوست سمجھتا ہوں۔میاں صاحب موصوف ذکر کرتے ہیں کہ ایک دفعہ جمعہ کے دن کسی نے حضرت مولوی صاحب کو بتایا کہ نواب صاحب کی طبیعت خراب ہے۔جمعہ کی نماز کے بعد سیدھے کوٹھی آئے۔جون جولائی کا مہینہ۔اڑہائی تین کا وقت۔دروازہ جوکھٹکھٹایا تو والد صاحب نے پوچھا کون ! فرمایا نور الدین۔دروازہ کھولا حیران تھے کیا بات ہے۔فرمایا مجھے کسی نے کہا آپ کی طبیعت خراب ہے۔والد صاحب نے کہا آپ مجھے اطلاع فرماتے میں گاڑی بھیج دیتا۔فرمایا میں نے جب سنا