اصحاب احمد (جلد 2) — Page 481
481 سنوار اور اصلاح کے خلاف ہو۔سوم دوسروں کو آخری دم تک تاکید حق بتاتے رہیں اور ہر دم کونفس واپسیس یقین کر کے بطور وصیت حق پہنچاویں۔چہارم ان سچائیوں صداقتوں پر عمل درآمد کرانے میں کوشش کریں کہ وہ دوسرے لوگ بھی بدیوں سے بچنے اور نیکیوں پر مضبوط رہنے میں استقلال کریں۔“ ۵۔حضور کے سفر سیالکوٹ کے لئے خدمت حضرت اقدس مقدمات گورداسپور کے دوران میں ماہ اگست ۱۹۰۴ء میں چند روز کے لئے جب لاہور تشریف لے گئے تو اس موقعہ پر جماعت سیالکوٹ نے عرض کیا کہ حضور سیا لکوٹ کو اپنے قدوم میمنت لزوم سے مشرف فرما ئیں چنانچہ حضور نے وہاں جانا منظور فرمالیا تھا۔حضور کا یہ سفر سیالکوٹ حد درجہ مبارک ثابت ہوا۔اس سفر میں اپنے ہمراہ بعض انتظامات کے لئے آپ مرزا خدا بخش صاحب کو لے جانا چاہتے تھے چنانچہ اس بارہ میں آپ نے نواب صاحب کو ذیل کا مکتوب تحریر فرمایا: بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم ٢٢ اكتوبر ١٩٠٤ء مجی عزیز ی اخویم نواب صاحب سلمہ اللہ تعالی۔اسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔عنایت نامہ پہنچا حال معلوم ہوا۔مجھ کو پہلے ان مجبور یوں کا مفصل حال معلوم نہ تھا اب معلوم ہوا۔اس لئے میں اپنے خیال کو ترک کرتا ہوں خدا تعالیٰ جلد تر شفا بخشے۔آمین۔میں نے ان دنوں میں آپ کے لئے بہت بہت دعا کی ہے اور دعا کرنے کا ایسا موقعہ ملا کہ کم ایسا ملتا ہے الحمد للہ۔امید کہ جلد یا کسی قدر دیر سے ان دعاؤں کا ضرور اثر ظاہر ہو جائے گا۔دوسرے آپ کو یہ تکلیف دیتا ہوں کہ میں بروز پنجشنبه ۱۲۷ اکتوبر ۱۹۰۴ ء کو سیالکوٹ کی طرف مع اہل وعیال جاؤنگا۔اور شاید ایک ہفتہ تک وہاں رہوں اور شاید دو روز کے لئے کڑیانوالہ ضلع گوجرانوالہ میں جاؤں اور میرے ساتھ اہل وعیال اور چھوٹے بچے ہیں آپ براہ مہربانی ہفتہ عشرہ کے لئے مرزا خدا بخش صاحب کو میرے اس سفر میں ہمراہ کر دیں تا کہ ایک حصہ حفاظت اور کام ان کے سپر د کیا جائے امید ہے کہ دس دن تک بہر حال یہ سفر طے ہو جائے گا اگر وہ قادیان آجائیں اور ساتھ جائیں تو بہتر ہے زیادہ خیریت ہے۔والسلام خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ۔چنانچہ نواب صاحب کو اس خدمت کا موقعہ ملا اور مرزا خدا بخش صاحب حضور کے ہمراہ رہے اور وہ ۳۴۵ اسباب کے انتظام کے کفیل تھے۔