اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 4 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 4

4 نوٹ : نواب غلام محمد خاں صاحب کی چار بیگمات تھیں۔علی الترتیب ان کی ذیل کی اولا دذ کو روانات تھی۔پہلی بیگم کے بطن سے امیر بیگم۔احسن علی خاں۔باقر علی خاں ( لا ولد ) دوسری بیگم کے بطن سے حسینی بیگم (لاولد ) تیسری بیگم کے بطن سے نواب بیگم ( بیگم نواب ابراہیم علی خاں ) یہ تیسری بیگم اور والدہ نواب ابراہیم علی خاں سگی بہنیں تھیں۔چوتھی نواب بیگم بنت سردار خاں کے بطن سے فاطمہ بیگم۔محمد علی خاں۔ذوالفقار علی خاں۔یوسف علی خاں۔نواب جمال خاں کے پانچوں بیٹے یکے بعد دیگرے حسب ترتیب بالا نواب ہوئے۔نواب عطاء اللہ خاں کے بعد نواب وزیر خاں جو نواب بھیکن خان کے بڑے بیٹے تھے مسند نشین ہوئے اور نواب سکندر علی خان تک ریاست نواب وزیر خاں کی اولاد میں رہی۔نواب سکندر خاں لا ولد تھے۔انہوں نے نواب محمد علی خاں کو متبنے بنانا چاہا لیکن نواب غلام محمد خاں کو اپنا بیٹا بہت پیارا تھا۔جدائی گوارا نہ ہوئی۔دوسرے انہیں یہ بھی یقین تھا کہ سب سے بڑا ہونے کے سبب سے اور نواب جمال خان کے فرزند ثانی کی اولاد ہونے اور والدہ کی طرف سے بھی نواب سکندر علی خاں کا اقرب ہونے کی بناء پر خود ان کو ریاست کا حق پہنچتا ہے۔نواب سکندر علی خاں نے نواب ابراہیم علی خاں کو متنبہ بنالیا اور نواب سکندر علی کے فوت ہونے پر گڈی کے متعلق جھگڑا پیدا ہوا۔مقدمات پر بیوی کونسل تک گئے نواب غلام محمد خاں نے شرعا متبنیت ناجائز ثابت کر دی اور گڑی کا حق فریق ثانی کاٹوٹ گیا۔تذکر روسائے پنجاب مصنفہ سرلیپل گریفن جلد دوم ( اردو ) میں نواب محمد علی خاں صاحب اور آپ کے بھائی خاں ذوالفقار علی خاں صاحب کی تصاویر دی گئی ہیں اور لکھا ہے کہ ” یہاں فرمانروائے مالیر کوٹلہ کے اُن یکجری رشتہ داروں کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے جو خوانین“ کے لقب سے مشہور ہیں اور ان میں سے اب صرف خان صاحب غلام محمد خاں کی اولاد باقی ہے۔غلام محمد خانصاحب کا ذکر اوپر کیا جا چکا ہے کہ انہوں نے نواب سکندر علی خانصاحب کے نواب ابراہیم علی خاں کو متنبنی بنانے پر جھگڑا اٹھایا تھا کوٹلہ میں غلام محمد خاں صاحب کی وفات پران کی جاگیریں اور ریاست کے مالیہ کا حصہ ان کے پانچ صاحبزادوں کومل گیا۔اور سب سے بڑے صاحبزادے احسن علی خاں صاحب اپنے والد ماجد کی جگہ پراونشل درباری بنائے گئے۔احسن علی خاں ۱۹۰۷ء میں فوت ہوئے۔اُن کے چھوٹے بھائی محمد علی خاں صاحب اور ذوالفقار علی خاں صاحب نے انھیسن کالج میں تعلیم پائی۔محمد علی خاں صاحب علوم مشرقیہ کے مطالعہ میں مصروف ہو گئے۔خاں ذوالفقار علی خاں صاحب لدھیانہ میں آنریری اکسٹرا اسٹنٹ کمشنر مقرر کئے گئے۔جس عہدے پر انہوں نے چند سال تک بہت اچھا کام کیا۔(۷۵۵) نوٹ: صرف خان غلام محمد خانصاحب کی اولا د کا باقی ہو نا غلط ہے۔(مولف کتاب ہذا )