اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 442 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 442

442 میں غالبا آئندہ ہفتہ میں ملوں گا پس اسی ہفتہ کے اندر اندر بلکہ بواپسی ڈاک خوب غور سے مجھ کو جواب عریضہ ملنا چاہئے۔محمد علی خاں خانہ بدوش اقوام کے تعلق میں حضرت نواب صاحب کی تجویز اپنی طرف سے تھی اور اس میں کامیابی ہوئی اور بعض ایسے دیہات جماعت احمدیہ کے سپرد ہوئے اور ان میں سے بعض اشخاص نے احمدیت قبول کی اور ان میں اخلاص پایا جاتا ہے اور ان کے نیک نمونہ سے دوسرے لوگ متاثر ہیں۔ملاقات حکام کے تعلق میں حضرت نواب صاحب کا ایک اور مکتوب درج ذیل ہے تحریر فرماتے ہیں۔بسم الله الرحمن الرحيم پیرن ہاؤس۔ٹوٹی کنڈی شملہ - ۱۷ را گست ۱۹۱۷ء سیدی حضرت خلیفتہ المسیح علیہ السلام مکرم معظم يسلمکم اللہ تعالی۔السلام علیکم۔حضور کا عنایت نامہ پہنچا۔عجیب بات ہے کہ جن امور کے لئے میں نے اسی روز حافظ صاحب کو بھیجا تھا۔وہی باتیں حضور نے لکھی ہیں ہاں حافظ صاحب کو جو میں نے زبانی کہا ہے ان ہی امور کے متعلق اس تفصیل کی بعد غور ضرورت اب بھی ہے۔حضور نے تحریر فرمایا ہے کہ بہت سے خطوط اکثر احمدیوں کے آئے ہیں کہ فوج میں ان کو تکلیف پہنچ رہی ہے۔پس اگر حضورا ایسے خطوط جس قدر میسر آسکیں میرے پاس بھیج دیں تو اگر کوئی مجھ سے واقعات طلب کرے تو میں یہ خطوط پیش کر سکوں تا کہ ہوائی بات تصور نہ کی جائے۔یہ کاغذات ضرور میرے پاس آنے چاہئیں میں نے رکروٹنگ جنرل آفیسر کے متعلق دریافت حالات کی کوشش شروع کر دی ہے کہ وہ کون ہے اور کہاں ہے تاکہ ملنے کی کوشش کروں یا بذریعہ چیف سیکرٹری گورنمنٹ پنجاب ملوں۔میں اگر ممکن ہوا تین چار افسروں سے ملنا چاہتا ہوں۔ایک نواب لیفٹنٹ گورنر صاحب دوم رکر وٹنگ جنرل آفیسر سوم ڈائرکٹر سررشتہ تعلیم چہارم پوسٹ ماسٹر جنرل۔استدعاء دعا محمد علی خاں ۱۹۱۷ء میں ہندوستانیوں کی طرف سے سیلف گورنمنٹ کا مطالبہ کیا گیا تھا۔اس وقت کے وزیر ہند ایڈون سیموئل مانٹی گونومبر ۱۹۱۷ ء میں ہندوستان آئے تا مختلف وفود سے ملاقات کر کے حالات کا جائزہ لے سکیں۔۱۵ نومبر کو دہلی میں حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے وزیر ہند سے پرائیویٹ ملاقات کی۔نیز احمد یہ وفد نے اسی روز ملاقات کر کے اپنا ایڈریس پڑھا۔جس میں یہ بھی ذکر کیا گیا تھا کہ ہندو مسلمانوں میں