اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 436 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 436

436 مکرم میاں سعید احمد خاں صاحب مرحوم کو تعلیم کے لئے قادیان بھیج دیا تھا۔یہ صاحبزادہ دوران تعلیم میں ہی قادیان میں احمدی ہوگئے اور پھر انہوں نے تحریک کر کے والد صاحب کو جب کہ وہ ریاست نابھ میں وزیر افواج اور کمانڈر انچیف تھے بیعت کر والی۔کرنل صاحب کا گزشتہ سال وفات تک احمدیت کے ساتھ مخلصانہ تعلق رہا ان کا جنازہ حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے پڑھایا تھا اللهُمَّ اغفر له وارحمه مرض الموت میں تبلیغ حضرت نواب صاحب نے اپنی مرض الموت میں بھی فریضہ تبلیغ کو خوب نباہا چنانچہ محترمہ سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ بیان فرماتی ہیں کہ انہوں نے عمر بھر ہر موقعہ پر عزیزوں میں تبلیغ کی حتی کہ مرض الموت میں بھی آخری بارسب رشتہ داروں کو تبلیغی خطوط لکھے اور لکھا کہ میں یہ آخری حجت تمام کرتا ہوں کیونکہ اب میری زندگی کے دن تھوڑے رہ گئے ہیں۔“ ۲- تجویز میموریل جیسا کہ پہلے تفصیل سے گزر چکا ہے حکام میں سے ایک طبقہ سوڈانی مہدی کے خیال سے اور مخالفین کی ریشہ دوانیوں کے نتیجے میں سلسلہ احمدیہ کی نئی تحریک کو شک و شبہ کی نگاہ سے دیکھتا تھا۔صحیح حالات سے حکومت کے ارباب حل و عقد کو آگاہ کرنا از بس ضروری تھا اور ایسی تجویز سلسلہ کی حد درجہ کی خیر خواہی تھی جو بہت ہی دوراندیشی پر بنی تھی اور جس کے نتیجہ میں مستقبل میں صدھا مشکلات سے بچے رہنے کی توقع تھی۔چنانچہ یہ تجویز حضرت نواب صاحب کی طرف سے پیش ہوئی اور حضرت اقدس نے اسے مفید سمجھ کر عملی جامہ پہنایا اور ۲۴ فروری ۱۹۸ء کو ایک طویل اشتہا ر اردو میں اور اس کا ترجمہ انگریزی میں شائع کیا جو لفٹنٹ گورنر پنجاب کے نام تھا۔اس میں حضور نے اپنے خاندان کی وفاداری کا ذکر فرمایا ہے اور احکام کی اس بارہ میں مراسلات درج فرمائے ہیں اور یہ بتایا ہے کہ کس طرح حضور نے جہاد کے غلط مفہوم کی تردید کی ہے۔اور یہ کہ بیعت میں یہ شرط رکھی گئی ہے کہ بیعت کرنے والا فساد اور بغاوت کے طریقوں سے بچتا رہے گا۔اس اشتہار میں حضور تحریر فرماتے ہیں۔(۴) چوتھی گزارش یہ ہے کہ جس قدر لوگ میری جماعت میں داخل ہیں اکثر ان میں سے سرکار انگریزی کے معزز عہدوں پر ممتاز اور یا اس ملک کے نیک نام رئیس اور ان کے خدام اور احباب اور یا تاجر