اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 424 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 424

424 مورخه ۰۲-۳- ۸ کو ڈائری میں تحریر فرماتے ہیں : آج شیخ محی الدین عرب سے گفتگو درباره اعتقادات شیعہ ہوئی اور آخر شیخ محی الدین نے مان لیا کہ اصول دین مذہب شیعہ خلاف کتاب اللہ انسانی گھڑت ہیں۔یہ محض خداوند تعالیٰ (کے ) فضل سے مجھ کو دلائل سو جھے اور اسی کی نصرت سے یہ کامیابی ہوئی آج عبد اللہ نے اور عبدالعزیز نے اور شیخ عبدالرحمن نے بیعت کی۔“ نوٹ : مکرم عرفانی صاحب فرماتے ہیں کہ صحیح نام عبدائمی ہے۔حجۃ اللہ کا لقب آپ اپنے نیک نمونہ سے یقیناً ایک کثیر تعداد کے لئے حجت تھے۔اس کی تصدیق الہام الہی نے کر دی۔اللہ اللہ ! کتنا بڑا مقام ہے جو آپ کو عطا ہوا۔آپ کے اسوہ سے حجت تمام ہوئی ، امراء پر جو ہزاروں عذرات لنگ اور خطرات موہومہ اپنی عزت و ناموس اور مال و منال کے لئے درپیش خیال کر کے دین جیسی عزیز متاع کو اپنے ہاتھ سے کھو دیتے ہیں اور فانی دنیا کے اعزاز و اکرام کو ترجیح دیتے ہیں یکم مارچ ۱۹۰۳ء کو صبح کی سیر میں حضرت اقدس نے نواب صاحب کو مخاطب کر کے فرمایا۔یکم مارچ ۱۹۰۳ء صبح کی سیر نواب صاحب کو مخاطب کر کے فرمایا کہ آج رات ایک کشف میں آپ کی تصویر ہمارے سامنے آئی اور اتنا لفظ الہام ہوا حجة الله یہ امر کوئی ذاتی معاملات سے تعلق نہیں رکھتا اس کے متعلق یوں تفہیم ہوئی کہ چونکہ آپ اپنی برادری اور قوم میں سے اور سوسائٹی میں سے الگ ہو کر آئے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے آپ کا نام حجة اللہ رکھا۔یعنی آپ ان پر حجت ہوں گے۔قیامت کے دن ان کو کہا جاوے گا کہ فلاں شخص نے تم میں سے بقیہ حاشیہ :- اور حضرت کے حضور سنائے بھی۔گلدستہ مسکین میں اس کا ذکر انہوں نے خود کیا ہے۔“ را تم عرض کرتا ہے کہ مسکین صاحب محترم بہت ہی سادہ طبیعت تھے آج سے پچھیں چھپیں سال قبل کی بات ہے وہ بورڈنگ مدرسہ احمدیہ میں مغرب کے بعد اچار اور چینی فروخت کرنے کے لئے لایا کرتے تھے اور ہم ان کی خرید کے ساتھ اپنے اشعار سنانے کی فرمائش کرتے تو وہ بھی پوری کر دیا کرتے۔آخر عمر میں ان کے بڑہاپے اور غربت کی وجہ سے میرا ان کے ہاں کثرت سے آنا جانا تھا۔اور میں حسب توفیق ان کی مدد کرتا رہتا تھا۔اب آپ بہشتی مقبرہ میں آرام فرماتے ہیں۔