اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 415 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 415

415 کیا اور حضرت کو دعا کے لئے لکھا کہ میں جو لکھنا چاہتا ہوں اس میں شرح صدر ہو۔اور کوئی لوث نہ ہوا اور لوگوں کو فائدہ ہو۔“ ۱۸ جنوری ۱۸۹۸ء ” آج میں (نے) مضمون لکھنا بھی شروع کیا یہ مضمون حضرت اقدس کی تائید میں بقیہ حاشیہ پر موقوف ہے اس کی بابت عرض ہے کہ فی الحال میں کوئی تاریخ اپنے آنے کی عرض نہیں کر سکتا۔مجھ کو امراض نزلہ وغیرہ جو لاحق رہتے ہیں ان کا علاج حضرت مولانا مولوی نورالدین صاحب فرما ر ہے ہیں اور امراض روحانی کا علاج حضرت اقدس مسیح موعود و مہدی معہود و امام آخر الزمان علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں ایسے چشمہ روحانی سے طالبان حقیقت کا علیحدہ ہونا گویا سکندر کا آب حیواں سے علیحدہ ہونا ہے یا ایک طالب کا مطلوب سے علیحدہ ہونا۔ہم لوگ جس شخص کا انتظار کر رہے تھے اور جس کے جھنڈے کے نیچے کھڑے ہونے کا ہم کو ارمان تھاوہ امام الوقت آگیا اور خداوند تعالیٰ نے محض اپنے فضل وکرم سے ہم کو وہ چشم بینا عطا فرمائی کہ ہم نے اس کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اس کی جماعت میں داخل فرمایا فالحمد اللہ علی ذالک اور اس سے بڑھ کر یہ کہ ہم نے اس کو نشانوں سے پہلے قبول کیا اور خداوند تعالی ( نے ) آسمان اور زمین سے اس کی تائید میں نشان بارش کی طرح برسائے اور پھر یہ بڑا فضل کیا کہ اس مسیح کی جو محی اور ممیت اور خالق مسلمانوں نے سمجھا تھا اور اس کی خدائی صفات برخلاف ہمارے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دے رکھی تھیں ہم کو وہ صیح عطا فرما یا جرى الله في حلل الا نبیاء ہوکر اور بروز محمدی کے سبب سے ظل محمدی بن کر آیا اور اس طرح ہم کو اس بڑے شرک سے نجات دی جو مسیح کے سبب سے دنیا میں پھیل رہا تھا اور خونی مہدی کے انتظار سے ہم کو چھڑایا۔اور اس طرح ہم کو اپنے سلطان وقت کے نہ صرف زبانی بلکہ ایمانی خیر خواہ بنایا یعنی اپنی شرائط بیعت میں حضرت مسیح موعود نے قرار دیا ہے کہ گورنمنٹ کے قیام کے لئے ہم خیر خواہ اور بہی خواہ رہیں اور اس گورنمنٹ کے قیام کے لئے ہم جاں نثار ہیں کیونکہ اس نے اپنے عدل وانصاف سے جو امن دے رکھا ہے اس کی تواریخ سابقہ و حال میں نظیر پائی نہیں جاتی بلکہ اس وقت کی اور سابقہ اسلامی سلطنتوں میں بھی خاص مسلمانوں کو نہ یہ امن حاصل ہے اور نہ حاصل تھا پس ایسی منصف گورنمنٹ کی شکر گزاری واجب۔من لم يشكر الناس لم يشكر الله - یعنی جو لوگوں کی شکر گزاری نہیں کرتا وہ اللہ کی بھی شکر گزاری نہیں کرتا۔اس امام وقت نے جہاد سیفی یعنی تلوار کی جہاد کو قطعاً بند کر دیا اور اسی طرح بند کر دیا جس طرح قرآن شریف اور حدیث نبوی میں آیا تھا۔قرآن شریف میں تو ہے حَتَّى تَضَعَ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا اور حدیث شریف میں ہے۔يضع الحرب یعنی مسیح کے زمانہ میں جہاد قطعا بند کرے گا۔۲۹۲