اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 388 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 388

388 کرنے پر حضرت نے سمجھا کہ میں تقدیر کا قائل نہیں اس پر بھی لمبی تقریر فرمائی جوغالبًا الحکم میں درج ہوگی۔میں نے پھر بذریعہ مولانا عرض کیا کہ میں تقدیر کا قائل ہوں اور اللہ تعالیٰ پر جمیع صفات ایمان رکھتا ہوں اور اللہ تعالیٰ کو قادر وقدیر مانتا ہوں۔مگر میری عرض یہ ہے کہ باقی ماندہ صفات کو چھوڑ کر قد ر خیر وشر کو کیوں الگ طور سے لکھا جائے؟ یا تو تمام صفات کو لکھا جائے یا یہ بھی نہیں تو آپ نے فرمایا کہ یہ الگ طور نہ لکھی جائیں۔“ رسالہ نماز کی بابت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ فرماتی ہیں کہ یہ رسالہ آپ نے لکھا تھا جس پر بچپن میں میں نے بھی نماز یاد کی ہے (افسوس کہ مؤلف کو یہ رسالہ کہیں سے دستیاب نہیں ہوسکا ) اور اپنے بچوں کو وہ اکثر لکھ کر پڑھایا کرتے تھے یعنی ابتدائی سبق۔عزیزم محمد احمد خاں کی انگریزی کی پہلی نواب صاحب کی ٹائپ کی ہوئی موجود ہے اور دینیات کے سبق کاپیوں پر لکھ کر پڑھاتے تھے جو بچوں کے لئے اچھی خاصی کتاب ہو جاتی تھی۔بہت مفید مجموعہ ہوتا تھا۔مکرم میاں محمد عبد اللہ خان صاحب بیان کرتے ہیں کہ حضرت والد صاحب ہماری تعلیم و تربیت کا ہر طرح سے خیال رکھتے تھے۔ریاست میں ہر ایک کے لئے علیحدہ علیحدہ ایک خادم تھا۔جب قادیان آئے تو ہمارے حسب منشاء ٹرینڈ خادم نہیں ملتے تھے۔اسی لئے ہم چاروں بہن بھائیوں پر ایک خادم رکھا گیا جو باقاعدہ ہمیں سیر کرانے جاتا، غسل وغیرہ کا انتظام کرتا۔ناشتہ اور کھانے کا باقاعدہ اہتمام ہوتا تھا یہاں حضرت پیر منظور محمد صاحب کو کافی مشاہرہ پر رکھا جنہوں نے ہمیں قاعدہ میسر نا القرآن اور بعد میں قرآن مجید ناظرہ پڑھایا۔اسی سلسلہ میں حضرت والد صاحب نے ان کو ان کا مکان بنوا کر دیا تھا۔حضرت بھائی عبدالرحیم صاحب (حال درویش ) کو ہمارے لئے ٹیوٹر رکھا جو ہماری ورزش کا خیال رکھتے تھے۔ہمیں میروڈ بہ کھیلنے کے لئے لے جاتے جس میں اکثر حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ، حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب اور کبھی حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب (خلیفہ اسیح الثانی) بھی شامل ہو جاتے۔ہمیں بھائی جی جغرافیہ حساب وغیرہ مضامین اور حضرت حافظ روشن علی صاحب قرآن مجید باترجمہ پڑھاتے۔شہر کے مکان بقیہ حاشیہ:- میرے سوال کا صحیح مفہوم ظاہر کیا۔اس پر حضرت نے فرمایا کہ جس قدر قرآن شریف میں ہے اسی قدر درج رسالہ کیا جائے۔متن کی روایت کا ایک حصہ مسجد مبارک کے متعلق ہے مع خاکہ مسجد اسے صفحہ ۴۷ پر درج کیا گیا ہے۔