اصحاب احمد (جلد 2) — Page xliii
با بومحمد افضل صاحب ایڈیٹر البدر رضی اللہ عنہ بھی ہمارے ہمراہ تھے۔میری کمزوری کی وجہ سے والد صاحب مجھے سیدہ ام متین صاحبہ والے مکان میں لے گئے جہاں ہمارا قیام تھا۔اس وقت حضرت اماں جان نوراللہ مرقدہا کے صحن کی طرف کا دروازہ کسی نے کھٹکھٹایا، والد صاحب نے دریافت کیا کون ہے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جواب دیا۔دروازہ کھلنے پر حضور تشریف لائے اور کچھ دیر تک میرا حال دریافت فرماتے رہے۔“ بابت مقدمه کرم دین صفحہ ا پر زیر اتصیح بابت مقدمہ کرم دین“ میں نے تحریر کیا تھا حضرت قاضی محمد صاحب کی چٹھی نہیں مل سکی ، اس دوران میں وہ دستیاب ہوگئی ہے اس لئے اسے درج کیا جاتا ہے۔آپ تحریر فرماتے ہیں:۔ملک مولا بخش صاحب کے حالات کے ذیل میں صفحہ ۱۳۳ پر فیصلہ اپیل مقدمہ مولوی کرم الدین کے عنوان کے نیچے لکھا ہے کہ حضرت احمد علیہ السلام جہلم مواہب الرحمن میں چند الفاظ استعمال شدہ کے بناء پر تشریف لے گئے تھے حالانکہ یہ واقعہ غلط ہے۔حضرت احمد نے کتاب اعجاز امسیح شائع کی۔پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی نے اس کے جواب میں سیف چشتیائی شائع کی جو دراصل مولوی محمد حسن صاحب ساکن بھیں کے تحریر کردہ نوٹوں کا مجموعہ تھا اور اس کو مولوی محمد غازی صاحب نے ترتیب دے کر پیر صاحب کی طرف سے شائع کیا۔مولوی کرم دین صاحب ساکن بھیں (کے ) اس سلسلہ میں کچھ خطوط اخبار سراج الاخبار میں شائع کئے گئے جس کے ایڈیٹر فقیر محمد صاحب تھے۔حضرت حکیم فضل الدین صاحب اور ایڈیٹر صاحب الحکم نے مولوی کرم الدین صاحب کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا۔۱۵/ جنوری ۱۹۰۳ء اس مقدمہ کی بمقام جہلم سماعت مقرر ہوئی۔حضرت احمد علیہ السلام بطور گواہ اس مقدمہ میں جہلم تشریف لے گئے تھے۔اپنے ساتھ نو تصنیف کتاب مواہب الرحمن بھی لے گئے اور راستہ میں تقسیم کی گئی جس میں اس مقدمہ کے بارہ میں ایک کشف کا ذکر تھا اور مولوی کرم دین صاحب کے بارے میں کذاب اور لیم اور رجل مھین کے الفاظ استعمال فرمائے تھے۔