اصحاب احمد (جلد 2) — Page 345
345 سے غلط واقعات پہنچے ہیں جس نے آپ سے یہ تار اور خط لکھوائے اس لئے ضروری ہوا ( کہ ) میں نہایت صحیح واقعات جن کا مجھ کو مسیح علم ہے اور جس پر میں حلف بھی کر سکتا ہوں عرض کروں۔وھو ھذا۔آپ کے آنے سے پہلے غالبا وصیت لکھی جا کر میرے پاس بطور امانت حضرت خلیفہ مسیح علیہ السلام صدیق مرحوم مغفور یعنی مولانا مولوی نورالدین صاحب نے میرے سپرد کی ہوئی تھی جو حسب ذیل ہے۔بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم وعلى آله مع التسليم خاکسار بقائمی حواس لکھتا ہے لا اله الا الله محمد رسول اللہ میرے بچے چھوٹے ہیں ہمارے گھر مال نہیں ان کا اللہ حافظ ہے ان کی پرورش یا پرورش یامی و مساکین سے نہ ہو۔کچھ قرضہ حسنہ جمع کیا جاوے لائق لڑکے ادا کریں یا کتب ، جائیداد وقف علی الاولاد۔میرا جانشین متقی ہو۔ہر دلعزیز عالم باعمل ہو۔حضرت صاحب کے پرانے اور نئے احباب سے سلوک چشم پوشی و درگزر کو کام میں لاوے۔میں سب کا خیر خواہ تھا وہ بھی خیر خواہ بقیہ حاشیہ پوری طرح یاد نہیں آیا علی گڑھ کالج سے جہاں میں لیکچرار تھا میں نے کوئی برقیہ قادیان ارسال کیا تھا۔غالباً میں نے ایک برقیہ روانہ کیا تھا لیکن یہ بات مجھے بالکل یاد نہیں رہی کہ تارکس کے نام روانہ کی تھی۔-۵- راقم نے حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ سے استفسار کیا تھا آیا شیخ حمد تیمور صاحب نے حضور کے خلیفہ منتخب ہونے پر کوئی تار حضور کو روانہ کیا تھا اور اس کا مضمون کیا تھا۔حضور رقم فرماتے ہیں' یہ تا ر تھا کہ حد سے نہ بڑھو۔اور مولوی محمد علی صاحب وغیرہ سے صلح کرو۔یا ایسا ہی مضمون اور میں نے جواب دیا تھا کہ جو طریق آپ نے اختیار کیا ہے اس کا نتیجہ دہریت تک جاتا ہے جس کا نتیجہ ایک ماہ میں انہوں نے خدا تعالیٰ سے انکار کر دیا۔چربہ به ماری تھا کہ دو سے نہ بڑھو اور بولوں گھر علی صاحب یہیں سے صلح کر دیں کی مضمون اور ہیو نے جواب دیا تھا کہ طرفہ پورانا ایا کیا رات کا یم دہریت کا جاتا ہے جنکا نتیجہ ایک ماہ خدا تعالے سے انکار کر دیا۔