اصحاب احمد (جلد 2) — Page 327
327 معالم میں رائے نہیں دیا۔خیر پھر مولوی جناب انہیں میسہ بھی نہیں چھوڑ سکتے۔اور لاہور کے کا مجروں کا کہتے رہے کہ تم لوگ جلد سے الطرح سلوک کرتے ہو۔مگر انہوں نسبت ایک امیر آدمی نے لکھا ہے کہ انہوں نے اس کے ہے نے مالک نہیں اور آئی یا خود ہی ب دیتے گئے۔مردہ کر دیر بھی ہو کی کچھ آئی لئے وہ لوگ چلے گئے۔پیچھے مرزا بعقوب بیاید یا پو چھا کہ سندا دا تا دیانت کا کیا حال ہے خدا تولی نے خلیفہ حجاب کیا تھکا و کرم کرے۔اور یہ بھی لکھا ہے کہ ہ لوگ مشورہ صاحب نے لاہور کے خط لکھا کہ آپ ہماریے سلیقہ سے مکتی صورت پرائیوٹ فور کے اور ذاتی طور سے تومیں حالات کے بھید کر رہے ہیں کہ کوئی اور طبقہ ترک کر یا ان اردو اور مایہ مقرر کردیا کے لیئے آپ صرف پریذیڈنٹ ہو نیکی بہشت میں دیتے کو سفریال کردیا جائے تا کہ خلافت والی بات بھی بنی رہے اور کام بانی ہو جائے۔مولوی صاحب نے ارادہ کیا ہے کہ پیر پیر امات اور انک انی که مولو امور این اے کی فضل الدین کے کھاتا ہے ایسا فصیلہ کرینگے۔ادارہ کا معلوم ہوتا ہے کہ کچھ میرو نکال دیئے کہا کہ بسیار کم فرو می کنم مولوی کے کہنے پر