اصحاب احمد (جلد 2) — Page 325
325 پاس نہ بیچا جائے۔میں نے مخالفت کی آخر یہ فیصلہ ہوا کہ اچھا اگر پندرہ دن تک قیمت لا وے تو دیا جائے اور تین مہینہ والی مہلت فسخ کی جائے۔اس کے بعد وہ شخص ساڑھے تین ہزار روپیہ اور پانچ سوروپیہ کی ایک ہنڈی لایا اور مولوی صاحب سے کہا کہ یہ روپیہ اور ہنڈی تو لو اور باقی روپیہ بھی میں جلد لاتا ہوں۔ابھی مدت سے کچھ دن باقی تھے۔مولوی صاحب نے فرمایا کہ ہنڈی شاید وہ لوگ نہ لیں تم جا کر روپیہ ہی لاؤ۔اور اگر ایک دو دن زیادہ بھی ہو گئے کچھ حرج نہیں وہ شخص گیا اور مولوی صاحب نے میرے سامنے مولوی محمد علی سے کہا کہ میں اس سے یہ کہہ بیٹھا ہوں۔جس پر انہوں نے کہا کہ جب ساڑھے تین ہزار روپیہ دے گیا ہے تو پھر دس پندرہ دن کی بھی اس کو مہلت دے سکتے ہیں۔خیر وہ شخص مدت کے ایک یا دو دن کے بعد آیا اور پانچ سو رو پید اور دے کر کہا کہ باقی پانچ سو بھی لاتا ہوں۔اس کے دوسرے دن کمیٹی تھی۔چونکہ یہ لوگ بار بار لکھ رہے تھے کہ قوم کا روپیہ تباہ کیا گیا ہے۔اس لئے مولوی صاحب نے ناراضگی میں ان کو یہ لکھا کہ اگر ایسا ہی ہے تو اب مُدت گذر چکی ہے تم اس فیصلہ کو موقوف کر دو۔اتنے میں حکیم فضل الدین صاحب کا بھائی آیا اور اس نے کہا کہ دونوں چیزیں یعنی مکان اور زمین ہمارے حوالہ کر دو اور دونوں چیزوں کی قیمت گیارہ ہزار پڑی۔کمیٹی میں معاملہ پیش ہوا اور فیصلہ ہوا کہ اس کا سودا فسخ کیا جائے اور حکیم صاحب کے بھائی کے پاس فروخت کیا جائے۔میں نے تو کہہ دیا کہ میں اس معاملہ میں کچھ رائے نہیں دیتا۔جس پر ڈاکٹر سید محمد حسین بہت کچھ تلملائے کہ یہ تقوے کے برخلاف ہے۔مگر میں خاموش ہور ہا اور کہہ دیا کہ خواہ کچھ ہو میں اس معاملہ میں کچھ رائے نہیں دے سکتا۔خیر فیصلہ ہوا اور مولوی صاحب کو سُنانے کے لئے سب مل کر گئے میں تو نہ گیا۔ایک کام کے لئے مولوی محمد علی کے کمرہ میں آیا ہوا تھا کہ اتنے میں ایک لڑکے نے آ کر کہا کہ مولوی صاحب بُلاتے ہیں۔گیا تو انہوں نے پوچھا کہ آپ لوگوں نے باوجود میری رائے کے جاننے کے پھر میرے برخلاف فیصلہ کر دیا اور مجھے سے پوچھا تک نہیں میں نے عرض کر دیا کہ میں نے تو اس معاملہ میں رائے نہیں دی۔خیر پھر مولوی صاحب انہیں کہتے رہے کہ تم لوگ مجھ سے اس طرح سلوک کرتے ہو۔مگر انہوں نے سُنا تک نہیں اور آگے سے خود ہی بولتے گئے۔آخر جو کہ دیر ہوئی کچھ اسی لئے وہ لوگ چلے گئے۔پیچھے مرزا یعقوب بیگ صاحب نے لا ہور سے خط لکھا کہ آپ ہمارے خلیفہ ہیں لیکن صرف پرائیویٹ طور کے اور ذاتی طور کے معاملات کے فیصلہ کے لئے ایک صرف پریذیڈنٹ ہونے کی حیثیت میں دیکھتے ہیں اور آپ کی کوئی حیثیت نہیں۔اس پر بات اور۔۔۔۔یہاں تک پہنچی کہ مولوی محمد علی نے حکیم فضل الدین صاحب کے سمجھانے پر کہا کہ فیصلہ ہم خود ہیں۔ہم مولوی صاحب