اصحاب احمد (جلد 2) — Page xxxii
دق کیا۔مولوی برہان الدین صاحب انہی میں سے ایک تھے۔جب وہ واپس جارہے تھے تو کچھ غنڈے ان کے پیچھے ہو گئے اور ان پر گند وغیرہ پھینکا۔آخر بازار میں ان کو گرا لیا اور ان کے منہ میں گوبر ڈالا۔دیکھنے والوں نے بعد میں بتایا کہ جب مولوی بر ہان الدین صاحب کو جبراً پکڑ کر ان کے منہ میں زبر دستی گوبر اور گند ڈالنے لگے تو انہوں نے کہا ”الحمد للہ۔ایہ نعمتاں کتھوں۔مسیح موعود نے روز روز آناں وے؟ یعنی الحمد للہ ی نعمتیں انسان کو خوش قسمتی سے ہی ملتی ہیں۔کیا مسیح موعود جیسا انسان روز روز آ سکتا ہے کہ انسان کو ہمیشہ ایسا موقعہ ملے۔یہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے دوزخ پیدا کی ہی نہیں جاسکتی۔کیونکہ خد تعالیٰ نے ان کو ایسا بنا دیا ہے کہ ان کی برکات کی وجہ سے ہر دوزخ ان کے لئے برکت بن جاتی 66 ہے اور راحت کا موجب ہوتی ہے۔جب میں تصور کرتا ہوں کہ یہ بزرگ ایک ایک کر کے ہم سے جد اہور ہے ہیں تو میرے جیسا شخص جوان سے بہت کم مستفیض ہو سکا اور جسے صحابہ کبار کے بیشتر حصہ کو دیکھنے کا موقعہ نہیں ملا اس کا دل بھی بیٹھنے لگتا ہے اور وہ سوچتا ہے اور سخت بیقرار ہو کر سوچتا ہے کہ کیا وہ دُنیا تاریک و تار نہ ہوگی اور کیا اس کی زندگی تکلیف دہ نہ ہوگی کہ جب حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کی پاک محبتوں سے فیض یافتہ صحابہ کرام سے خالی ہو جائے گی اور ہم اس آواز سے محروم ہو چکے ہونگے کہ میں نے اللہ تعالیٰ کے مُرسل علیہ السلام کی زبان مبارک سے یہ بات سنی۔آپ سے مصافحہ کیا۔آپ کو یوں کرتے دیکھا۔آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق اور فدائی تھے۔آپ سے سنا کہ آپ سے اللہ تعالیٰ کلام کرتا ہے۔آپ کی زبانِ مبارک سے وحی سنی اور پھر پوری ہوتی دیکھی۔حضور کے ہمراہ سیر کرنے کا اور مجالس میں بیٹھنے کا اور نمازیں ادا کرنے کا موقعہ ملا۔سو میں بھرے دل سے نئی پود کی خدمت میں عرض پرداز ہوں کہ اے پیارو! وقت عزیز کو ہاتھ سے نہ جانے دو اور ان بزرگوں سے فائدہ اُٹھالو اور اپنے تئیں ان کا عکس بنا لو تا کہ وہ بھی خوش ہوں کہ انہوں نے بہترین ہاتھوں میں عنانِ سلسلہ سونپی ہے اور حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ ، حضرت ام المومنین اطال اللہ بقاء ہا اور تمام صحابہ کے لئے خاص طور پر اپنی دعاؤں کو وقف کر دیں تا سلسلہ کی ترقی کے الہی وعدے ان کی زندگیوں میں پورے ہوں۔اے اللہ تو تو فیق عطا کر۔آمین اللہ تعالیٰ نے جبکہ ہمیں بتا دیا ہے کہ وہ زمانہ آ رہا ہے کہ جب بادشاہ حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کے کپڑوں سے جو کہ فقط کچھ عرصہ حضور کے جسم مبارک سے چھو چکے ہونگے برکت ڈھونڈ ینگے تو اس سے ہم بخوبی