اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 255 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 255

255 خدا تعالے نے ایسا بھی بنایا ہے کہ وہ بھی اپنے اندر کئی مقدمات بر پا رکھتا ہے۔اور ان مقدمات سے نفس انسانی بے آرام رہتا ہے لیکن جب انسان کسی امر کے متعلق ایک فیصلہ کر لیتا ہے تب اس فیصلہ کے بعد ایک آرام کی صورت پیدا ہو جاتی ہے آپ کی رائے میں صرف یہ کسر باقی ہے کہ ہمیں زندگی کا اعتبار نہیں جیسا کہ خدا تعالیٰ نے میرے پر ظاہر فرمایا ہے ایسا ہی آپ بھی زندگی پر بھروسہ نہیں کر سکتے۔اور اس بارے میں یہ شعر شیخ سعدی کا بہت موزوں ہے۔مکن تکیه بر عمر ناپائدار مباش ایمن از بازی روزگار پس اگر ہمیں موت آگئی تو ہم اس رشتہ کی خوشی سے محروم گئے اور نیز اس دعا سے محروم رہے کہ جو ہماری زندگی کی حالت میں اس رشتہ کے مبارک ہونے کے لئے کر سکتے تھے کیونکہ وہ دعا اس وقت سے مخصوص ہے جب نکاح ہو جاتا ہے۔علاوہ اس کے ہریک کو اپنی عمر پر اعتماد کرنا بڑی غلطی ہے آج سے چھ ماہ پہلے آپ کے گھر کے لوگ صحت کے ساتھ زندہ موجود تھے۔کون خیال کر سکتا تھا کہ وہ اس عید کو بھی نہ دیکھ سکیں گے۔اسی طرح ہم میں سے کس کی زندگی کا اعتبار ہے اگر موت کے بعد اس وعدہ کی تکمیل ہو تو گویا میری اس بات کو یاد کر کے خوشی کے دن میں رونا ہو گا۔مگر میں آپ کی رائے میں کچھ دخل نہیں دیتا۔صرف عمر کی بے ثباتی پر خیال کر کے یہ چند سطریں لکھی ہیں کیونکہ بقول شخصے در اے ز فرصت بے خبر هر چه باشی زود باش وقت فرصت کو ہاتھ سے دینا بسا اوقات کسی دوسرے وقت میں موجب حسرت ہو جاتا ہے میری دانست میں تو اس میں کچھ ہرج نہیں اور سراسر مبارک ہے کہ رمضان کی ۲۷ تاریخ کو جو بظن غالب لیلتہ القدر کی رات اور دن ہے مسنون طور پر نکاح ہو جائے اور اس میں کیا حرج ہے کہ اس سے لڑکی کو اطلاع دی جائے مگر وداع نہ کیا جائے۔لڑکی بجائے خود پرورش اور تعلیم پاوے اور لڑ کا بجائے خود۔جب دونوں بالغ ہو جائیں تب رخصت کیا جائے۔کیونکہ فی التاخیر آفات کا ہی مقولہ صحیح ہے جو تجر بہ اس کی صحت پر گواہی دیتا ہے۔زندگی کا کچھ بھی اعتبار نہیں۔شیخ سعدی نے اس میں کیا عمدہ ایک غزل لکھی ہے اور وہ یہ ہے۔زار زار ے نالید گفتمش صبر کن که باز آید گفت ترسم بقا وفا نکند اسی طرح شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: سال دیگر را که می داند حساب بر فراق بہار و وقت خزاں آں زماں شگوفہ و ریحاں ورنہ ہر سال گل دهد بستان تا کجا رفت آں کہ با ما بود یار