اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 241 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 241

241 میں شائع نہیں ہوئے ان میں سے صرف ۱۹۰۱ء میں ایک الہام اس بارے میں اخبار الحکم میں شایع ہوا تھا جب کہ مبارکہ بیگم کی عمر صرف چار برس کی تھی اور نواب محمد علی صاحب کی پہلی بیوی صحیح و سالم ان کے گھر میں آباد تھی اور وہ الہام یہ ہے۔نواب مبارکہ بیگم۔یہ الہام دو الگ الگ فقرے ہیں۔ایک (نواب ) دوسرا فقرہ مبارکہ بیگم ) اس الہام میں دونوں فقروں کو ایک جگہ بالمقابل لکھ کر یہ پیشگوئی کی گئی تھی کہ مبارکہ بیگم نوابی خاندان میں بیاہی جائے گی۔اس الہام کو شایع کئے چار برس ہو گئے اور یہ پیشگوئی نہایت صاف اور واضح ہے اور دونوں نام بالمقابل بیان کرنے سے جو اشارہ کیا گیا ہے وہ ایسا اشارہ ہے جو اس سے بڑھ کر باوجودا جمال بقیہ حاشیہ: - میں نہیں جانتا کہ میری کون قوم ہے۔مگر میر اعلم بتا تا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی اولاد ہوں۔حضرت عمر میرے جد امجد بڑے مہروں کو پسند نہیں کرتے تھے۔مگر ایک مرتبہ جب ایک عورت نے کہا۔قَنَاطِيرُ الْمُقَنْطَرُةٌ بھی مہر ہو تو خدا نہیں روکتا تو عمر کون روکنے والا ہے۔اس پر حضرت عمر نے فرمایا کہ عمر سے تو مدنیہ کی عورتیں بھی افقہ ہیں۔پس ایک فاروقی کے منہ سے اس وقت ۵۶ ہزار کے مہر کو خفیف سمجھنا ضر ور قابل غور ہے کیا میرے جیسے آدمی کا میرا اتنا باندھا جا سکتا ہے جس نے آیا تو کھالیا کپڑ مل گیا تو پہن لیا اس کا مہر تو اُسی حیثیت کا جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقعہ پر ایک صحابی کو کہا کہ تیرے پاس کچھ ہے اس نے جواب دیا نہیں۔پھر آپ نے فرمایا کہ اچھا لوہے کی انگوٹھی ہی لے آ جب اس نے اس سے بھی انکار کیا اور کہا کہ صرف نہ بند ہے تو اس کا مہربما منك من القرآن فرمایا فقہاء نے اس پر اختلاف کیا ہے بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد یہ ہے کہ تیری قرآن دانی کے بدلے اور بعض کہتے ہیں کہ قرآن کی تعلیم دینے کے لئے۔بہر حال مہروں کا اندازہ انسان کے حالات پر ہوتا ہے۔چار سو درہم یا دوسو درہم یا پانچ سوٹ کا سلطانی یہ کوئی شرعی حدود یا قیود نہیں ہیں پس جو لوگ کل کی بات کو غور سے سوچتے ہیں ان کو اور بھی مشکلات ہوتے ہیں۔بہر حال حضرت صاحب نے تمام امور کو مد نظر رکھ کر ۵۶ ہزار روپیہ مہر تجویز فرمایا ہے اور میری اپنی سمجھ میں یہ مہران حالات کے ماتحت جو خوانین کے ہاں پیش آتے ہیں۔کچھ بھی نہیں اور بہت تھوڑی رقم ہے۔تاہم حضرت صاحب نے بڑی رضامندی سے اس مہر پر مبارکہ بیگم کا نکاح کر دینا قبول فرمایا۔اس سے یہ اجتہاد نہیں ہوسکتا کہ نور دین جیسے کا بھی یہی مہر ہو۔مہر حالات کے لحاظ سے ہوتا ہے اس کے بعد ایجاب وقبول ہوا اور حضرت اقدس نے دعا فرمائی۔نوٹ : یہ خطبہ الحکم جلد ۱۲ نمبر ۵ پر چه ۲۶ فروری ۱۹۰۸ء میں درج ہے اور وہاں سے بدر جلدے نمبر ۹ پر چہ ۱۵ مارچ ۱۹۰۸ء میں شائع ہوا۔