اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 238 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 238

238 بتاتے تھے کہ جب حضرت اقدس نے دو سالہ آمدنی کی جمع ۵۶ ہزار روپیہ تمہارا مہر مقرر فرمایا تو اس وقت میری آمدنی کم تھی مگر میں خاموش ہور ہا اور حضرت کے اندازے کی تردید مناسب نہ سمجھی لیکن اس سال کے اندر ایک ورثہ کے شامل ہو جانے سے ٹھیک اتنی ہی آمد ہو گئی جس کا دو سالہ حساب ۵۶ ہزار بنتا تھا۔کئی بار مجھ سے اس بقیہ حاشیہ : - اور امتحان مقابلہ کے وقت ہوتا ہے۔ایک طرف قوم اور رسم و رواج بلاتا ہے دوسری طرف خدا تعالیٰ کا حکم ہے۔اگر قوم اور رسم و رواج کی پروا کرتا ہے تو پھر اس کا بندہ ہے اور اگر خدا تعالیٰ کی فرماں برداری کرتا ہے اور کسی بات کی پروا نہیں کرتا تو پھر خدا تعالے پر سچا ایمان رکھتا ہے اور اس کا فرماں بردار ہے اور یہی عبودیت ہے قرآن مجید نے اسلام کی یہی تعریف کی ہے۔مَنْ أَسْلَمُ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ - چی فرماں برداری یہی ہے کہ انسان کا اپنا کچھ نہ رہے۔اس کی آرزوئیں اور امیدیں اس کے خیالات اور افعال سب کے سب اللہ تعالیٰ ہی کی رضا اور فرماں برداری کے نیچے ہوں۔میرا اپنا تو یہ ایمان ہے کہ اس کا کھانا پینا۔چلنا پھرنا سب کچھ اللہ ہی کے لئے ہو تو مسلمان اور بندہ بنتا ہے۔خدا تعالیٰ کے فرماں بردار اور رضامندی کی راہوں کو بتانے والے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں چونکہ ہر شخض کو مکالمہ الہیہ کے ذریعہ الہی رضامندی کی خبر نہیں ہوتی۔اگر کسی کو ہو بھی تو اس کی وہ حفاظت اور شان نہیں ہوتی جو خدا تعالے کے ماموروں اور مرسلوں کی وحی میں ہوتی ہے اور خصوصاً سرور انبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی کہ جس کے دائیں بائیں آگے پیچھے ہزاروں ہزار ملائکہ حفاظت کے لئے ہوتے ہیں۔اس لئے کامل نمونہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم ہی ہیں اور وہی مقتدا اور مطاع ہیں۔پس ہر ایک نیکی تب ہی ہو سکتی ہے کہ جب وہ اللہ تعالے یہی کے لئے ہو۔اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کے نیچے ہو۔اس کے بعد میں نے کچھ آیتیں پڑھی ہیں۔ان میں عام لوگوں کو نصیحت ہے کہ نکاح کیوں ہوتے ہیں۔اور نکاح کرنے والوں کو کن امور کا لحاظ رکھنا چاہئے۔مخلوق کو اللہ تعالے انے معدوم سے بنایا ہے اور یہ شان ربوبیت ہے۔نکاح میں ربوبیت کا ایک مظہر ہے۔اس لئے اللہ تعالی فرماتا ہے۔يَأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِى خَلَقَكُم مِّنْ نَّفْسٍ وَاحِدَةً۔یہ ایک سورۃ کا ابتدا ہے اس سورۃ میں معاشرت کے ۱۷۴ اصولوں اور میاں بیوی کے حقوق کو بیان کیا گیا ہے۔یہ آیتیں نکاح کے خطبوں میں پڑھی جاتی ہیں اور غرض یہی ہوتی ہے کہ تا ان حقوق کو مدنظر رکھا جاوے۔اس سورۃ کو اللہ تعالیٰ نے یا ایھا الناس سے شروع فرمایا ہے۔الناس جو انس سے تعلق رکھتا ہے تو میاں بیوی کا تعلق اور نکاح کا تعلق بھی ایک انس ہی کو چاہتا ہے تا کہ دو اجنبی وجود متحد فی الارادہ ہو جائیں غرض فرمایا لوگو ! تقویٰ اختیار کرو۔اپنے رب سے ڈرو۔وہ رب جس نے تم کو ایک جی سے بنایا۔اور اسی جنس سے تمہاری بیوی بنائی اور پھر دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پیدا کیں۔