اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 217 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 217

217 اپنی پنہ میں رکھیو سن کر یہ میری زاری روز کر مبارک سبحان من یرانی اے واحد و یگانہ اے خالق زمانہ میری دعائیں سن لے اور عرض چاکرانہ تیرے سپرد تینوں دیں کے قمر بنانا یہ روز کر مبارک سبحان من یرانی فکروں سے دل حزیں ہے جاں درد سے قریں ہے جو صبر کی تھی طاقت وہ مجھ میں اب نہیں ہے ہر غم سے دور رکھنا تو ربّ عالمیں ہے روز کر مبارک سبحان من یرانی اقبال کو بڑہانا اب فضل لے کے آنا ہر رنج سے بچانا دکھ درد سے چھڑانا خود میرے کام کرنا یا رب نہ آزمانا یہ روز کر مبارک سبحان من یرانی یہ تینوں تیرے چاکر ہوویں جہاں کے رہبر ہادی جہاں ہوں یہ ہوویں نور یکسر یہ مرجع شہاں ہو ں یہ ہوویں مہر انور یہ روز کر مبارک سبحان من یرانی اہل وقار ہوویں فخر دیار ہوویں حق پر شار ہوویں مولی کے یار ہوویں با برگ و بار ہوویں اک سے ہزار ہوویں روز کر مبارک سبحان من یرانی تو ہے جو پالتا ہے ہر دم سنبھالتا ہے سے نکالتا ہے دردوں کو ٹالتا ہے کرتا ہے پاک دل کو حق دل میں ڈالتا ہے یہ روز کر مبارک سبحان من یرانی تو نے سکھایا فرقاں جو ہے مدار ایماں جس سے ملے ہے عرفاں اور دور ہووے شیطاں یہ سب ہے تیرا احساں کہ تجھ پر شار ہو جاں روز کر مبارک سبحان من یرانی تیرا نبی جو آیا اُس نے خدا دکھایا دین قویم لایا بدعات کو مٹایا حق کی طرف بلایا مل کر خدا ملایا یہ روز کر مبارک سبحان من یرانی قرباں ہیں تجھ پہ سارے جو ہیں میرے پیارے احساں ہیں تیرے بھارے گن گن کے ہم تو ہارے دل خوں ہے غم کے مارے کشتی لگا کنارے یہ روز کر مبارک سبحان من یرانی اس دل میں تیرا گھر ہے تیری طرف نظر ہے تجھ سے ہوں میں منور میرا تو تو قمر ہے تجھ پر میرا توکل در پر ترے یہ سر ہے روز کر مبارک سبحان من یرانی جب تجھ سے دل لگایا سو سو ہے غم اُٹھایا تن خاک میں ملایا جاں پر وبال آیا پر شکر اے خدایا جاں کھو کے تجھ کو یہ روز کر مبارک سبحان من یرانی دیکھا ہے تیرا منہ جب چکا ہے ہم پہ کوکب مقصود مل گیا سب ہے جام اب لبالب تیرے کرم سے یارب میرا بر آیا مطلب یہ روز کر مبارک سبحان من یرانی احباب سارے آئے تو نے یہ دن دکھائے تیرے کرم نے پیارے یہ مہرباں بلائے پایا