اصحاب احمد (جلد 2) — Page 213
213 پورے طور پر اپنے تئیں درست نہیں کرتا کہ اس کی رحمت سبقت کر جاتی ہے گویا نیک بندوں کے لئے یہ بھی ایک امتحان ہوتا ہے چونکہ اللہ جل شانہ بے نیاز ہے نہ کسی کی اس کو حاجت ہے اور نہ کسی کی بہتری کی اس کو ضرورت ہے اس لئے جب۔۔۔۔۔فرما تا ہے کہ کسی بندہ پر فیضان نعمت کرے تو ایسے وسائل پیدا کر دیتا ہے جس کی رو سے اس نعمت کو پانے کے لئے اس بندہ میں استحقاق پیدا ہو جائے تب وہ بندہ خدا تعالیٰ کی نظر میں جو ہر قابل ٹھہر کر مورد رحم بننے کے لئے لیاقت پیدا کر لیتا ہے سو اس خیال سے بے دل نہیں ہونا چاہئے کہ ہم کیونکر با وجود اپنی کمزوریوں کے ایسے اعلیٰ درجہ کے اعمال صالحہ بجالا سکتے ہیں جن کو خدا تعالیٰ کو راضی کر سکیں اور ہرگز خیال نہیں کرنا چاہئے کہ ایسی شرط تعلیق بالمحال ہے کیونکہ خدا تعالے اپنے بندوں کو جن کے لئے کارخیر کا ارادہ فرما تا ہے آپ توفیق دے دیتا ہے۔مثل مشہور ہے کہ ہمت مرداں مدد خدا۔سو نیک کاموں کے لئے بدل و جان جہاں تک طاقت ہے متوجہ ہونا چاہئے خدا تعالیٰ کو ہر ایک چیز اور ہر ایک حال اور ہر شخص پر مقدم رکھ کر نماز با جماعت پڑھنی چاہئے کہ قرآن کریم میں بھی جماعت کی تاکید ہے اگر بانفراد نماز پڑھنا کافی ہوتا تو اللہ جل شانہ یہ دعا نہ سکھاتا کہ اهدنا الصراط المستقيم بلکہ یہ سکھاتا اهدنى الصراط المستقیم اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ کونوامع الصادقين۔۔۔( واَركَعُوا ) مع الراكعين اور واعتصموا بحبل الله جميعاً ان تمام آیات میں جماعت۔۔۔۔سو اللہ جل شانہ کے احکام میں کسی سے شرم نہیں کرنا چاہئے۔تقویٰ کے یہ معنی ہیں کہ اس۔۔۔قائم ہو جائے پھر اس کے مقابل پر کوئی ناموس یا ہتک یا عار یا خوف خلق یا کسی کے لعن و طعن کی کچھ حقیقت نہ رکھے۔ایمان تقویٰ کے ساتھ زندہ ہوتا ہے اور جو شخص اللہ تعالے کے ساتھ کسی دوسرے شخص یا کسی دوسری چیز کو یا کسی دوسرے خیال کو کچھ حقیقت سمجھتا ہے اور اس سے ڈرتا ہے وہ تقویٰ کے شعار سے بالکل بے بہرہ ہوتا ہے ہمارے لئے کامل خدا بس ہے۔والسلام مرزا غلام احمد عفی عنہ * ۲۵ / مارچ ۱۸۹۳ء ☆ یہ غیر مطبوعہ مکتوب ہے مجھے اس کی نقل دیکھنے کا موقعہ ملا ہے جس پر درج ہے کہ اصل بعض جگہ دریدہ ہے چنانچہ وہاں نقطے ڈال دئے گئے ہیں۔