اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 212 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 212

212 بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلی عزیزی مجی اخویم نواب محمد علی خاں صاحب سلمہ تعالی۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔آپ کے دو عنایت نامے پہنچے یہ عاجز باعث شدت کم فرصتی و علالت طبع جواب نہیں لکھ سکا اور نیز یہ بھی انتظار رہی کہ کوئی بشارت کھلے کھلے طور پر پالینے سے خط لکھوں چنانچہ اب تک آپ کے لئے جہاں تک انسانی کوشش سے ہوسکتا ہے توجہ کی گئی اور بہت سا حصہ وقت کا اس کام کے لئے لگایا۔سوان درمیانی امور کے بارہ میں اخویم مرزا خدا بخش صاحب اطلاع دیتے رہے ہوں گے اور آخر جو بار بار کی توجہ کے بعد الہام ہواوہ یہ تھا ان الله على كل شئ قدير - قل قوموا الله قانتین - یعنی اللہ جل شانہ ہر ایک چیز پر قادر ہے۔کوئی بات اس کے آگے ان ہونی نہیں۔انہیں کہد و۔۔۔۔جائیں اور یہ الہام ابھی ہوا ہے۔اس الہام میں جو میرے دل میں خدا تعالیٰ کی طرف سے فعلی طور پر کئے وہ یہی ہیں کہ ارادہ الہی آپ کی خیر اور بہتری کے لئے مقدر ہے لیکن وہ اس بات سے وابستہ ہے کہ آپ اسلامی صلاحیت اور التزام صوم وصلوٰۃ و تقوی وطہارت میں ترقی کریں بلکہ ان شرائط سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ امرخفی نہایت ہی بابرکت امر ہے جس کے لئے یہ شرائط رکھے گئے ہیں۔مجھے تو اس بات کے معلوم کرنے سے بہت خوشی ہوئی ہے کیونکہ اس میں آپ کی کامیابیوں کے لئے کچھ نیم رضا مجھی جاتی ہے۔اور یہ امر تجربہ سے ثابت ہو گیا ہے کہ اس قسم کے الہامات اس شخص کے حق میں ہوتے ہیں جس کے لئے اللہ تعالیٰ ارادہ خیر فرماتا ہے اس عالم سفلی میں اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے کوئی کسی معزز عہدہ کا خواہاں ہو۔۔۔۔وقت اس کو اس طور سے تسلی دے کہ تم امتحان دو ہم تمہارا کام کر دیں گے۔سو خدا تعالیٰ آپ میں اور آپ کے دوسرے اقارب میں ایک صریح امتیاز دیکھنا چاہتا ہے اور چونکہ آپ کی طبیعت بفضلہ تعالیٰ نیک کاموں کے ساتھ مناسبت رکھتی ہے اس لئے یہی امید کی جاتی ہے کہ آپ اپنے مولیٰ کریم کو خوش کریں گے میں نے مرزا خدا بخش صاحب کو رمضان کے دنوں تک اس لئے ٹھہرالیا ہے کہ تا پھر بھی ان مبارک دنوں میں وقتا فوقتا آپ کے لئے دعائیں کی جائیں۔مجھے ایسا الہام کسی امر کی نسبت ہو تو میں ہمیشہ سمجھتا ہوں کہ وہ ہونے والا ہے۔اللہ جَلَّ شَانه طاقت سے زیادہ کسی پر بار نہیں ڈالتا بلکہ رحم کے طور پر تخفیف کرتا ہے اور ہنوز انسان