اصحاب احمد (جلد 2) — Page 208
208 اس پر آپ نے فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اس الہام میں حفاظت کا وعدہ فرمایا ہے اور خدا کے وعدے سچے ہیں مگر اس جگہ یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ حفاظت سے مراد حفاظت جسم ہے یا حفاظت روح۔مرحومہ کے متعلق چندروز گذرے حضرت ام المومنین نے بھی ایک رؤیا دیکھا تھا جس سے معلوم ہوتا تھا کہ کب وہ وقت قریب ہے کہ بیگم صاحبہ حسنِ خاتمہ کے ساتھ اور ایمانی حالت کی عمدگی کے ساتھ اس جہاں سے کوچ کر جائیں۔مذکورہ بالا وحتی الہی جو کہ اخبار بد نمبر ۹ مورخہ ۲ / مارچ ۱۹۰۶ء میں شائع ہوئی تھی اور مرحومہ کے متعلق تھی اس کے الفاظ جیسا کہ درج اخبار ہوئے تھے اس طرح سے ہیں: ۲۵ / فروری۔الہام۔درد ناک دکھ اور دردناک واقعہ۔اس کے بعد رویا میں دیکھا کہ کوئی خادمہ عورت جو اپنے تعلق والوں میں سے کسی گھر کی ہے۔آئی ہے اور کہتی ہے کہ میری بیوی یکا یک مرگئی یہ سن کر میں اٹھا ہوں کہ اپنے گھر میں اطلاع کر دوں کہ پہلا الہام پورا ہو گیا اور پگڑی اور عصا ہاتھ میں لیا اور چلنے کو تھا کہ بیداری ہوگئی۔اس الہام الہی میں ریکا یک کا مرنا اس امر کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ مرحومہ کی عمر بہت تھوڑی تھی اور بیمار بھی تھوڑا عرصہ ہی رہی اور وہ بھی اوائل میں کوئی خطرناک معلوم نہ ہوتی تھی بلکہ معمولی معلوم ہوتی تھی۔صرف آخری دنوں میں زیادہ تر خوف ناک ظاہر ہوئی ورنہ سل دق کے مریض برسوں تک زندہ رہتے ہیں۔مرحومہ ایک ذہین عورت تھی اور تعلیم یافتہ تھی اور تعلیم کا اکثر حصہ اپنے پیارے خاوند نواب صاحب سے حاصل کیا تھا۔جس کا سبب یہ ہوا تھا کہ مرحومہ نواب صاحب موصوف کی دوسری بیوی تھی۔اور آپ کی پہلی بیوی مرحومہ کی بڑی بہن تھی جس کی وفات پر نواب صاحب موصوف کا نکاح مرحومہ کے ساتھ ہوا تھا۔اور اپنی بڑی بہن کے ایام زندگی میں بھی مرحومہ کی رہائش زیادہ تر نواب صاحب کے گھر میں اپنی بہن کے پاس ہوتی تھی اور نواب صاحب موصوف سے تعلیم حاصل کرتی تھی۔اس تعلق کے علاوہ مرحومہ نواب صاحب کی خالہ کی بیٹی تھی مرحومہ کی کوئی اولاد نہیں ہوئی لیکن نواب صاحب موصوف کی پہلی اولاد کے ساتھ ( جو کہ مرحومہ کے ہمشیرہ زاد ایک لڑکی تین لڑکے ہیں ) اس کو بہت محبت اور انس تھا۔اور ہر طرح سے ان کی تربیت اور حفاظت میں ساعی رہتی تھیں۔مرحومہ میں یہ سب خوبیاں تھیں لیکن سب سے بڑی بات جو اس کے متعلق قابل ذکر ہے یہ ہے کہ مرحومہ کو حضرت اقدس مسیح موعود کے ساتھ نہایت مخلصانہ ارادت کا تعلق تھا۔اور آپ کے دعاوی پر اس کو سچا ایمان تھا اور باوجود ایک دولتمند ہونے کے اس تعلق بیعت کے نباہنے میں کوئی شئے اس کے واسطے یہ الحکم جلد نمبرے مورخہ ۰۶-۲-۲۴ میں بھی چھپ چکا ہے۔