اصحاب احمد (جلد 2) — Page 200
200 طبعی امر ہے کہ جس کے ساتھ زیادہ تعلق اور رابطہ ہو اس سے زیادہ توقعات وابستہ ہوتی ہیں اور اگر کوئی ادنی سا امر بھی ان توقعات کے خلاف ظہور پذیر ہو تو اس سے زیادہ تکلیف ہوتی ہے بہ نسبت اس کے کہ اگر کسی اور سے بقیہ حاشیہ: - فرماتے ہیں : ”حضرت جس مکان میں رہا کرتے تھے اب اس میں ام المومنین علہیا السلام رہتی ہیں ( اس ) کے صحن اور میرے مکان کے صحن میں صرف ایک دروازہ حائل تھا۔گویا اس وقت نقشہ یہ تھا: کمرہ ۱ ۲ ۳ میں میری رہائش تھی درست ہے گوس کے متعلق یقینی یا د ( نہیں ) ۴ میں مولوی محمد احسن صاحب رہا کرتے تھے (پختہ یاد نہیں مگر شاید درست ہی ہے ) وہ میرا صحن تھا ( درست ہے ) وہ حضرت صاحب کا صحن ( درست ہے ) الف دونوں صحنوں کے درمیان دروازہ تھا ( درست ہے ) اور ے میں آپ کا رہائشی کمرہ اور 8 میں بیت الفکر تھا ( درست ہے ) حضرت اماں جان فرمایا کرتی ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کمرہ ے کو بھی بیت الفکر میں شامل فرماتے تھے یعنی ۷ (۸ دونوں عرف عام میں ۸ ہی بیت الفکر کہلاتا ہے ) (۵) دروازه دروازه (۳) صحن حضرت ایران جان من و الان حضرت اماں جان را (4) برآمده (9) (۴) (۲) اور ے آپ کا رہائشی کمرہ اور ۸ بیت الفکر تھا۔تو اس طرح حضرت صاحب جب کوئی بات کرتے تو ہمیں صاف سنائی دیتی ویسے کوئی بات ہو یا عورتوں میں تقریر ہو رات دن میں حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر آتا ہے تو آپ کے منہ سے یہی کلمہ نکلتا تھا۔” ہمارے رسول کریم ہمارے رسول کریم ،