اصحاب احمد (جلد 2) — Page 179
179 ۲۵/نومبر ۱۹۰۱ء بروز سوموار سیر سے پہلے میں سیکیم مدرسہ بناتا رہا بعد ظہر و عصر سکیم بنائی۔سیلیکٹ کمیٹی کا جلسہ ہوا اور پانچ بجے کے قریب تک رہا۔“ ۲ جنوری ۱۹۰۲ء۲۱ رمضان المبارک بعد نماز ظہر و عصر مدرسہ کے متعلق قواعد مرتب کرتا رہا۔“ جنوری ۲۲۰۱۹۰۲ رمضان المبارک " ( صبح ) قواعد مدرسہ لکھے نماز عصر کے بعد مولوی محمد علی صاحب سے مشورہ متعلق قواعد مدرسہ کیا۔“ ۴ جنوری ۱۹۰۲ ۲۳ رمضان المبارک سیر سے آکر مولوی محمد علی صاحب (سے) عہدہ داران مدرسہ وغیرہ کے متعلق گفتگو ہوتی رہی۔پھر مولوی نورالدین صاحب تشریف لے آئے۔پھر بعد نماز بھی مولوی محمد علی صاحب سے کتابوں وغیرہ کے متعلق گفتگو ہوئی۔“ مدرسہ کا انتظام اس عرصہ میں کس خوش اسلوبی سے سرانجام پا تا رہا۔مکرم مفتی محمد صادق صاحب کی زبانی سنئے۔کچھ اعداد وشمار بھی اس ضمن میں معلوم ہو جائیں گے فرماتے ہیں کہ : مدرسہ تعلیم الاسلام قادیان جنوری ۱۸۹۸ء سے گھلا۔اس وقت وہ پرائمری تک تھا۔اول مدرس کی تنخواہ پندرہ اور آخری مدرس کی پانچ روپے ماہوار تھی۔۱۸۹۸ء میں مڈل ۱۹۰۰ء میں ہائی کی پہلی۔۱۹۰۱ء میں ہائی کی دوسری کھولی گئی۔“ ” جب حضرت نواب محمد علی خاں صاحب ہجرت کر کے قادیان آگئے تو حضرت اقدس نے مدرسہ کا کام ان کے سپر د کر دیا۔اور ۲ دسمبر ۱۹۰۱ ء سے مجلس منتظمہ کی بجائے تمام انتظام مدرسہ حضرت نواب صاحب موصوف کے ہاتھ میں ہو گیا۔جنھوں نے اس خدمت کو تین سال تک نہایت محنت اور کوشش سے ادا کیا لیکن جبکہ ابتدائے ۱۹۰۵ء میں نواب صاحب کو اپنے بعض خانگی امور طے کرنے کے واسطے ایک عرصہ تک لاہور میں ٹھہر نا پڑا تو مدرسہ کا انتظام بحکم حضرت اقدس دوبارہ ایک کمیٹی کے سپر د کیا گیا۔“ نیز فرماتے ہیں کہ دو سال تک کا لج کا قیام رہا اور نتیجہ بھی عمدہ رہا۔لیکن یو نیورسٹی کے نئے قوانین کے انتظار