اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 171 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 171

171 ایک شریر سے پوچھا کہ اب مرزا صاحب کی طفیل تمہاری کتنی آمدنی ہوگئی ہے تو کہا کہ بیس روپیہ ماہوار زیادہ ملتے ہیں علی ہذا القیاس ، ان گدھے والوں اور مزدوروں سب سے دریافت کرو تو یقین ہوگا کہ ان کے واسطے ہمارا یہاں رہنا کیسا بابرکت ہے۔مگر ان سب کے دلوں میں ایک آگ بھی ہماری طرف سے ہے باوجود ہم سے متمتع ہونے کے پھر بھی ان کے اندر ایک کپکپی ہے کہ یہ یہاں کیوں آگئے ابھی ایک مینار بن رہا ہے اگر کوئی میرے جیسا خلیق ہوتا تو راستہ کو توڑ کر مینار ایک کونے میں بناتا۔مگر اس مجسم رحم انسان ( مرزا غلام احمد ) نے اسے مسجد کے اندر بنایا کہ لوگوں کو تکلیف نہ ہو ان لوگوں کو غیرت نہیں آتی کہ کیا ان دروازے سے آنے والوں کی عقل ماری گئی ہے کہ دوڑے چلے آرہے ہیں؟ یہ کہاں کے فلاسفر ہوئے جوایسی بات کرتے ہیں؟ کیا ان کے تجارب ہم سے زیادہ ہیں۔یا معلومات میں ہم سے بڑھ کر ہیں؟ شرم کے مارے کچھ جواب تو نہیں دے سکتے یہ کہتے ہیں کہ ان لوگوں کی مت ماری گئی ہے کہ رو پید اپنا کھاتے ہیں اور یہاں رہتے ہیں۔یہ حال تو گاؤں کی مخالفت کا ہے پھر سب مولوی مخالف گدی نشین مخالف،شیعہ مخالف ،سنی مخالف، آریہ مخالف مشنری مخالف۔دہریوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا مگر وہ بھی مخالف اور نہایت خطرناک دشمن اس سلسلہ کے ہیں۔ان تمام مشکلات کے مقابلہ میں دیکھو وہ (حضرت مرزا صاحب ) کیسے کامیاب ہے۔کیا تمہارا دل نہیں چاہتا کہ تم اس طرح کامیاب ہو؟ یہاں ہمارا رہنا تمہارا رہنا اسی کے نظارہ ہیں کہ باوجود اس قدر مخالفت کے پھر پروانہ وار اس پر گرتے ہیں اس کا باعث یہی ہے کہ وہ کتاب اللہ کا سچا حامی ہے اور رات دن دعا میں لگا ہوا ہے اس لڑکے سے بڑھ کر کوئی خوش قسمت نہیں ہے جس کے لئے یہ دعائیں ہوں مگر ان باتوں کو وہی سمجھتا ہے جس کی آنکھ بینا اور کان شنوا ہو۔(۱۹/ جون ۱۹۰۳ء) " لتنبتهُمْ بِأَمْرِهِمُ هذا کی صدا یوسف کے کان میں پڑی۔اسی سے سوچو کہ جب خدا کا فضل ساتھ ہوتا ہے تو کوئی دشمن ایذا نہیں پہنچا سکتا۔کس طرح کا جاہ وجلال اور بحالی یوسف کو ملی اور سب سے عجیب بات یہ کہ ان بھائیوں کو آخر کہنا پڑا اِنَّا كُنَّا خَاطِئِین اس کا جواب یوسف نے دیا لَا تَشْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ يَغْفِرُ الله لَكُمُ یہ اللہ پر یقین کا نتیجہ تھا تم بھی اللہ پر کامل یقین کرو اور ان دعاؤں کے ذریعہ جو کہ دنیا کی مخالفت میں سپر ہیں فضل چاہو۔کتاب اللہ کو دستور العمل بناؤ تا کہ تم کو عزت حاصل ہو باتوں سے نہیں بلکہ کاموں سے۔اس کتاب کے تابع اپنے آپ کو ثابت کرو۔ہنسی ، تمسخر، ٹھٹھا، ایذاء گالی یہ سب اس کتاب کی تعلیم کے برخلاف ہے جھوٹ سے لعنت سے تکلیف اور ایذا دینے سے ممانعت اور لغو سے بچنا اس کتاب کا ارشاد ہے۔صوم اور صلوٰۃ اور ذکر و شغل الہی کی پابندی اس کا اصول ہے۔تمہاری تربیت کی ابتدائی حالت ہے اور اگر چہ تربیت کرنے والے اس قابل نہیں ہیں کہ تم کو اعلیٰ منازل تک پہنچا دیں مگر کوئی کمزوری اور نقص