اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 150 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 150

حضرت نواب صاحب تھے۔150 کن حالات میں آپ کو ڈائرکٹر بنایا گیا ان حالات کا جائزہ لینے کے لئے جن میں سے اس وقت مدرسہ گذر رہا تھا۔یہ ذکر کر دینا خالی از فائدہ نہ ہوگا کہ ۳۱ مارچ ۱۹۰۰ء کو چار پانچ کالم کے طویل اداریہ میں الحکم کے ایڈیٹر صاحب محترم نے احباب کو تلقین کی کہ دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کے عہد کو پیش نظر رکھ کر مدرسہ کی امداد کے لئے مالوں کو قربان کریں کیونکہ اس قدر روپیہ بھی نہیں کہ جو ایک ماہ کی تنخواہوں کا کفیل ہو سکے۔مزید ہم حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کی ایک تحریک من و عن نقل کر دیتے ہیں۔اس سے اس معاملہ کی پوری وضاحت ہو جاتی ہے آپ تحریر فرماتے ہیں: جماعت کی خدمت میں مدرسہ تعلیم الاسلام کے سیکرٹری کی درخواست اس وقت مدرسہ تعلیم الاسلام قادیان کا ماہوار خرچ دوسو روپیہ ہے اور بہت جلد اس سے بھی زیادہ ہوتا نظر آتا ہے معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے بہت سے بھائی ایسے ہیں جنھیں خصوصاً اس طرف توجہ کرنے کی فرصت نہیں ملی شاید ان کی فکر اور رویت نے اس کو زیادہ گراں قدر اور اہم نہیں سمجھا اگر کوئی یہاں حضرت اقدس کی صحبت میں چند روز بسر کرے تو جس طرح اس کو یقین ہوگا کہ اس دور رس امر کی طرف حضرت اقدس کی خاص توجہ معطوف ہے اسے معایہ بھی یقین ہو جائے گا کہ مدرسہ تعلیم الاسلام کو حضرت اقدس بہت ضروری اور اپنی غرض اور غایت کی مہمات میں سے سمجھتے ہیں۔جہاں تک میں غور کرتا ہوں اس وقت تک اس کی بقاء محض حضرت اقدس کی دعاؤں پر منحصر رہی ہے ورنہ ہمارے بھائیوں کی غفلت نے اس کو ضعف پہنچانے میں کوئی کوتا ہی نہیں کی۔ہر مہینہ میں ہمیں دلدوز فکر لگتی ہے مذکورہ بالا تمام کو ائف رپورٹ مورخہ ۲۹ دسمبر ۱۹۰۰ء مرتبہ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب جائنٹ سیکرٹری مجلس منتظمہ اور رپورٹ مولوی محمد علی صاحب سکرٹری کونسل ٹرسٹیاں مندرجہ ضمیمہ الحکم (۱ تا ۲۲) پر چہ ۱۰ جنوری ۱۹۰۱ ء ماخوذ ہیں (ب ) گوالحکم بابت ۱۹۰۰-۳-۱۷ ( صفحہ ۳ کالم ۳) سے معلوم ہوتا ہے کہ دینیات کی شاخ اس وقت کھول دی ہے ( اور مجدد اعظم میں بھی اس کے کھلنے کا زمانہ مارچ ہی قرار دیا گیا ہے ) لیکن خود دالحکم بابت ۱۹۰۰-۴-۱۰ کے اداریہ میں صاف مرقوم ہے کہ ابھی شاخ دینیات کے کھلنے کی تجویز ہی تھی اور رپورٹ مندرجہ الحکم بابت ۱۰ر جنوری ۱۹۰۰ میں بھی یہی مرقوم ہے کہ یہ شاخ یکم نومبر ۱۹۰۰ء کو کھولی گئی۔