اصحاب احمد (جلد 2) — Page 115
115 وو کیا جائے۔۔۔۔۔لاتعلق انبیاء سے بھی دعا کم نکلتی ہے۔پس دعا کے لئے تعلق کا پیدا کرنا ضروری ہے۔کیونکہ دعا اپنے اختیار میں نہیں ہوتی۔اسکے لئے بھی وقت اور تحریک کی ضرورت ہوتی ہے۔پس پاس رہنے سے تحریکیں ہوتی رہتی ہیں۔اکثر حضرت اقدس کا قاعدہ ہے کہ کوئی شخص معمول پر اگر حاضر نہیں ہوا تو دریافت فرماتے ہیں کہ فلاں کیوں نہیں آیا اگر وہ بیماری کی وجہ سے حاضر نہیں ہوا تو ان کو تحریک ہوتی ہے۔یا اگر اور ذرائع سے معلوم ہوا کہ فلاں شخص بیمار ہے تو آپ جس طرح ایک بہت ہی محبت کرنے والی ماں بے چین ہوتی ہے اس سے کہیں بڑھ کر بے چین ہوتے ہیں اور اس لئے تحریک پیدا ہوتی ہے یا کسی وقت دعا کا عمدہ وقت مل گیا تو جن کے نام یا د ہوتے ہیں نام لے لے کر دعا فرماتے ہیں اور اب جو دور ہے ممکن ہے کہ اس کا نام بھول جائے۔پس جو ہر وقت سامنے رہتے ہیں۔ان کے لئے دعاؤں کا زیادہ موقعہ ملتا ہے۔اس لئے یہاں کے علاج میں بڑا فائدہ ہے جو دوسری جگہ حاصل نہیں ہو سکتا۔“ آپ کے بڑے بھائی خان احسن علی خاں صاحب نے آپ کو ذیل کا خط واپس بلانے کے لئے تحریر کیا: برادر بجاں برابر بلکه از صد جانم بهتر خوشتر عزیزی محمد علی خاں صاحب سلمہ۔بعد دعائے ازدیاد عمر و دولت مطالعہ کرے کہ اس جگہ بفضلہ تعالیٰ خیریت ہے۔خیر و عافیت اس عزیز کی درگاہ رب العزت سے شب و روز نیک خواہاں وجویان۔عرصہ ہوا کہ وہ عزیز مع اہل وعیال ریاست گاہ کو چھوڑ کر دار الامان قادیان میں سکونت پذیر ہے۔اولاً خیال طبیعت کو یہ تھا کہ بعد گذر نے ایام گرما کے آپ اپنے مکان پر آجائیں گے لیکن ابھی تک یہ صرف خیال ہی خیال ہے۔چونکہ آپ کا اپنی ریاست میں آنا ہی ضروریات سے ہے۔اس واسطے میں اپنی شخصی رائے ظاہر کرتا ہوں کہ مع اہل وعیال کو ٹلہ آجائیں اور اس جگہ اپنے ارکان مذہبی کو پورے طور پر ادا کریں اور جس وقت طبیعت رغبت کرے آپ بذات خود شوق سے ہمیں دن مہینے کے واسطے قادیان چلے جایا کریں اور پھر واپس ریاست کو آجایا کریں۔مجھ کو کامل امید ہے کہ آپ میری اس رائے کو پسند کریں گے اور مجھ کو اپنی تاریخ روانگی سے اطلاع دیں گے تاکہ میں ہی قادیان پہنچوں اور تم کو ہمراہ لے کر کوٹلہ کو چلا آؤں۔بہت ایسے معاملات ہیں کہ جن میں تمہارے مشورہ سے ان کی اصلاح ضروری ہے۔اسی خیال سے ایک خط بخدمت جناب مرزا صاحب بھی روانہ کیا گیا ہے بقیہ وہ بھی تم سے تذکرہ کریں گے۔باقی خیریت بچوں کو دعا و پیار