اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 108 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 108

108 ۱۸۷ میں شامل ہو جائیں۔“ اسی طرح حضور ۲۹ جنوری ۱۹۰۰ء کو تحریر فرماتے ہیں : دعا تو بہت کی گئی اور کرتا ہوں مگر ایک قسم دعا کی ہوتی ہے جو میرے اختیار بقیہ حاشیہ : نہیں معلوم ہوتا اللہ تعالیٰ نے بے مانگے حضرت اقدس کو کرسی دلوادی اور جہاں جہاں سے گذر ہوا لوگ زیارت کے لئے آتے اور بڑے ادب سے تعظیم و تکریم کرتے۔بٹالہ کے اسٹیشن پر جب پہنچا تو اسٹیشن پر حضرت اقدس مع ایک کثیر جماعت کے موجود تھے۔اسٹیشن ماسٹر باوجود ہندو ہونے کے ان کی اس قدر تعظیم کرتا تھا کہ جس کی حد نہیں اور لوگ بہت ہی جھک جھک کر سلام کرتے اور گورداسپور تک جس قدرٹیشن تھے۔لوگ ان کے آنے کے منتظر اور زیارت کے خواہاں موجود تھے اور ہندو اور سکھ وغیرہ آن کر سلام کرتے اور کہتے کہ بڑے مہاتما بڑے ولی ہیں۔گورداسپور میں ادنے سے اعلیٰ تک خواہ حکام تھے۔یا غیر حکام حضرت اقدس کی تعظیم کرتے تھے۔اس مقدمہ سے حضرت اقدس کی مماثلت حضرت مسیح علیہ السلام سے کامل طور سے ثابت ہوئی ( پانچ سطر چھوڑ کر ناقل ) اسی طرح یہاں پر محمد حسین نے کہا کہ بغاوت کا ارادہ اور بادشاہ بننے کی خواہش کرتے ہیں۔جیسے حضرت مسیح کے ساتھ حاکم معہ اپنے ملازمان کے طرفداری کرتے تھے ایسا ہی یہاں پر ہوا کہ چپڑاسیوں تک خیر خواہ تھے جیسے وہاں ایک معتقد نے گرفتار کروایا تھا ایسا ہی یہاں پر ہوا۔اسی طرح یہاں پر بھی جمعہ کے روز فیصل ہوا۔جیسے جمعہ کے روز وہ مقدمہ فیصل ہوا تھا اس جمعہ کو بوجہ عید یہودیان تعطیل تھی اسی طرح اس جمعہ کو جنم اسمٹی کی وجہ سے رخصت تھی۔مگر باوجود اس کے دونوں موقعوں پر مقدمہ پیش ہوا۔غرض ہر طرح مماثلت ثابت ہوتی ہے۔اس دفعہ جس قدر ذلت محمد حسین کی ہوئی ہے ایسی شاید کسی کی نہیں ہوئی۔۔اللہ تعالی (نے) سب کو شرمندہ کیا۔محمد حسین تو اگر ذرہ بھی شرم اور حیا رکھتا ہو ڈوب کر مر جائے۔مگر خدا معلوم ابھی اور ذلتوں کا منہ دیکھنا باقی ہوگا۔۔۔صاحب مجسٹریٹ نے مخبر کو رہائی دیگر جہلم کو سوار کرا کر بھیج دیا ہے اور ہمارے وکلاء کو کہہ دیا ہے کہ غالباً تمہارے آنے کی ضرورت نہیں ہوگی اتوار کو فیصلہ لکھوں گا اور پیر کو سناؤں گا۔ہماری جماعت کے بہت لوگ آئے ہوئے ہیں۔والسلام عاجز مرزا خدا بخش ۵- مرزا خدا بخش صاحب تحریر کرتے ہیں: بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلی دارالامان قادیان ۲۳ فروری ۱۹۰۰ء مخدوم مکرم جناب نواب صاحب السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔۔۔حضرت اقدس فرماتے ہیں کہ