اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 107 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 107

107 تو مناسب ہے کہ ایک ہفتہ کے لئے مرزا خدا بخش صاحب کو بھیج دیں تا ان مشوروں بقیہ حاشیہ: - -۴- ڈاکٹر مارٹن کلارک کے مقدمہ کے تعلق میں مرزا خدا بخش صاحب تحریر کرتے ہیں: بسم الله الرحمن الرحيم گورداسپور ۲۱ اگست ۹۷ء نحمده ونصلی مخدوم و مکرم جناب نواب صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ۔الحمد للہ کہ اللہ تعالیٰ نے دشمنان دین کا منہ کالا کر دیا۔اس مخبر نے محض تائید الہی سے صاف صاف بیان کر دیا کہ فلاں فلاں پادری نے مجھے سکھلایا اور اس وکیل نے جو عیسائیوں کی طرف سے عدالت میں پیرو کار تھا۔امرتسر کے مقام پر یہ یہ باتیں سکھلائیں اور مجھے بہت ڈرایا اور دھمکایا گیا اور میرا تین دفعہ فوٹو لیا گیا اور کہا گیا کہ اگر تو بھاگ جائیگا تو تجھے گرفتار کرایا جاوے گا۔غرض ان سے کل (لفظ پڑھا نہیں گیا) کے ساتھ ہر ایک عیسائی کے سامنے بڑی جرات سے کل راز سر بستہ کوکھول کر عیسائیوں کے مکر اور فریب اور بے ایمانی کو اظہر من الشمس کر دیا۔والـحـمـد الله علی ذلک۔حضرت اقدس سے جواب دعوی ہی نہیں لیا گیا۔صاحب مجسٹریٹ نے اس مخبر کو رہا کر دیا اور ہدایت کی تم اپنے وطن کو چلے جاؤ۔کپتان صاحب نے بڑی عمدہ شہادت دی کہ اس مخبر کی خاص نگرانی کی گئی۔حضرت مرزا صاحب کا کوئی آدمی نزدیک نہیں آنے پایا۔جب میں نے بحکم صاحب مجسٹریٹ اس مخبر سے اصلیت کی تحقیق کے لئے اس سے دریافت کیا تو برابر اپنے سابقہ بیان۔۔۔پر مصر رہا۔ایک روز میں نے بذات خود دریافت کیا۔دو دفعہ تو یہی کہا کہ میرا وہی بیان ہے جو تیسری مرتبہ کپتان نے (کہا) کہ تم ٹھیک ٹھیک بیان کر دو اس پر یک لخت اس۔۔۔۔پگڑی کو سر سے اتار کر کپتان صاحب کے پاؤں پر گر پڑا اور زار زار رونے لگا۔۔۔۔اگر مجھے معافی ہو تو میں صاف صاف بیان کر دیتا ہوں۔کپتان نے کہ دیا کہ اچھا تمہیں معافی دی جاتی ہے تم راست راست ایمان سے کہو چنانچہ اس نے صاف صاف بیان کر دیا اور پھر مجسٹریٹ کے سامنے بھی اس نے بڑی جرات کے ساتھ اصل حقیقت بیان کر دی ہے۔کپتان کے روبرو اس نے محمد حسین بٹالوی کا نام بھی لیا تھا کہ اس نے مجھے بہت کچھ سمجھایا تھا۔مگر عدالت میں اس نے اس کا نام بیان نہیں کیا۔شاید سہوا بھول گیا۔اس کم بخت بدنصیب شیخ کا انجام بد ہی نظر آتا ہے مخالفت اور عدوات میں اس کی یہاں تک نوبت پہنچی ہے لیکن چونکہ اس کی نسبت الہام مدت سے ہے کہ انی مهین من اراد اهانتک اس کی کرات مرات تصدیق ہونی ضروری ہے کیونکہ وہ اب تک اپنی سرکشی سے باز نہیں آیا۔اس موقعہ پر جو ذلت اور خواری اس نا اہل مولوی کو نصیب ہوئی اس کی کوئی انتہا ہی نہیں چونکہ منشی یعقوب علی صاحب نے کل کارروائی کو چھاپ دیا ہے۔اس واسطے اس کا لکھنا ضروری