اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 95 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 95

95 سخت مصیبت کی حالت میں ہے اللہ تعالیٰ اس کو صبر بخشے و السلام ( مکتوب نمبر ۱۳) اسی طرح مکتوب نمبر ۱۳ میں جو مکرم عرفانی صاحب کے نزدیک مئی ۱۸۹۸ء کا ہے نواب صاحب کو حضرت اقدس تحریر فرماتے ہیں: افسوس کہ مولوی صاحب اس قدر تکلیف کی حالت میں ہیں کہ اگر اور کوئی سبب بھی نہ ہوتا تب بھی اس لائق نہیں تھے کہ اس شدت گرمی میں سفر کر سکتے۔ہفتہ میں ایک مرتبہ سخت بیمار ہو جاتے ہیں۔پیرانہ سالی کے عوارض ہیں اور مولوی صاحب کی بڑی لڑکی سخت بیمار ہے کہتے ہیں کہ اس کو سن ہو گئی ہے علامات سخت خطرناک ہیں۔نواسی بھی ابھی بیماری سے صحت یاب نہیں ہوئی ان وجوہ کی وجہ سے درحقیقت وہ سخت مجبور ہیں۔اسی طرح مکتوب مورخه ۶ را گست ۱۸۹۸ء میں حضور" تحریر فرماتے ہیں : ”مولوی صاحب کی دوسری لڑکی انہیں دنوں سے بیمار ہے جب کہ آپ نے بلایا تھا۔اب بظاہر ان کی زندگی کی چنداں امید نہیں۔جو اس میں بھی فرق آگیا ہے اور مولوی صاحب بھی ہفتہ میں ایک مرتبہ بیمار ہو جاتے ہیں بعض دفعہ خطر ناک بیماری ہوتی ہے۔حضرت مولوی صاحب کی شادی کیلئے کوشش حضرت مولوی نورالدین صاحب رضی اللہ عنہ کے نرینہ اولاد نہ تھی۔آپ حضرت اقدس کے فدائی تھے بقیہ حاشیہ: سن کر علم ہوا ہے۔خاکسار یہ عرض کرتا ہے کہ مذکورہ بالا بیانات سے یہ ظاہر ہے کہ حضرت اماں جی۔(اہل بیت حضرت مولوی صاحب) بوقت ولادت میاں عبدالرحیم خاں صاحب ۱۳/۱۴ جنوری ۱۸۹۷ء کو مالیر کوٹلہ میں تھیں۔ان کو دوسرے سفر کے الفاظ سے ظاہر ہے کہ وہ ان دونوں سفروں کو ایک ہی تسلسل میں سمجھتی تھیں کیونکہ یہ واقعہ ولادت تو دوسرے سفر کا ہے اس لئے یہ بات درست نہیں کہ حضرت مولوی صاحب اُس وقت اکیلے مالیر کوٹلہ گئے تھے یا تو حضرت اماں جی اُس عرصہ میں جبکہ حضرت مولوی صاحب قادیان اور لاہور گئے مالیر کوٹلہ میں ہی رہیں یا حضرت مولوی صاحب کے ساتھ دوبارہ تشریف لے گئیں۔چنانچہ مکرم عبدالرحیم صاحب ( درویش) بیان کرتے ہیں کہ قیام مالیر کوٹلہ میں حضرت مولوی صاحب ایک بار کچھ عرصہ کے لئے وہاں سے تشریف لے آئے تھے لیکن میں ۱۸۹۷ء میں ہی واپس آیا اور حضرت مولوی صاحب کے اہلِ بیت بھی ۱۸۹۶ء میں جا کر ۱۸۹۷ء میں ہی قادیان واپس آئے۔عبدالرحیم خاں صاحب کی ولادت میرے قیام مالیر کوٹلہ کے دوران میں ہوئی تھی میں جلسہ اعظم مذاہب میں بھی شامل نہیں ہوا۔