اصحاب احمد (جلد 2) — Page 94
94 کی وہ پیاری لڑکی جس کی شدت بیماری کی وجہ سے مولوی صاحب آ نہ سکے کل نماز عصر سے پہلے اس جہان فانی سے کوچ کر گئی۔انا للهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون۔اس کی والدہ بقیہ حاشیہ: ”جب میری لڑکی مبارکہ والدہ کے پیٹ میں تھی تو حساب کی غلطی سے فکر دامنگیر ہوا اور اس کا غم حد سے بڑھ گیا کہ شاید کوئی اور مرض ہو تب میں نے جناب الہی میں دعا کی تو الہام ہوا کہ ” آید آں روزے کہ مخلص شود، اور مجھے تفہیم ہوئی کہلڑکی پیدا ہوگی چنانچہ اس کے مطابق ۲۷ رمضان ۱۳۱۴ھ کوٹڑ کی پیدا ہوئی جس کا نام مبارکہ رکھا گیا۔“ ( نزول مسیح صفحہ۲۰۲) اور اس پیشگوئی کی تصدیق میں زندہ گواہوں میں حضرت مولوی صاحب کا نام بھی درج ہے۔اس سے شاید کسی کو یہ غلط نہی ہو کہ تاریخ بیان پیشین گوئی یکم فروری ۹۷ ء ہے اور اس تاریخ کو حضرت مولوی صاحب غضرور قادیان میں ہوں گے یہ نتیجہ نکالنا درست نہیں ان تمام پیشگوئیوں کے سننے والوں کے اسماء دریافت کر کے لکھے گئے ہوں گے چنانچہ مفتی محمد صادق صاحب ذکر حبیب میں تحریر فرماتے ہیں کہ نزول مسیح کا یہ نقشہ میں نے تیار کیاتھا ( صفحہ ۱۵۸) اس میں کیا شک ہے کہ اکثر احباب کو مرکز سے آمدہ خطوط کے ذریعہ ہی حالات اور پیش گوئیوں کی اطلاع ہوتی رہتی تھی۔سونزول امسیح میں اسماء کے اندراج کا یہ مفہوم نہیں کہ ان احباب نے حضرت اقدس سے براہ راست پیشگوئیاں سنیں بلکہ یہ مراد ہے کہ ان کے پورا ہونے سے قبل ان کو پیشگوئی کا علم ہو چکا تھا۔اس کی تصدیق مکرم میاں محمد عبد اللہ خاں صاحب کے بیان سے بھی ہوتی ہے۔وہ فرماتے ہیں کہ مالیر کوٹلہ میں قیام کے دوران میں میاں عبدالرحیم صاحب پیدا ہوئے تھے اور نواب مبار کہ بیگم صاحبہ کی ولادت پر حضرت اماں جان کی علالت کے باعث حضرت مولوی صاحب کو قادیان بلوایا گیا تھا۔چنانچہ نواب مبار کہ بیگم صاحبہ مجھے اپنے مکتوب مورخه ۵۱-۸-۱ میں تحریر فرماتی ہیں کہ: ”حضرت خلیفہ اول مارچ ۹۷ ء تک مالیر کوٹلہ ٹھہرے عبدالرحیم خاں ان کے سامنے پیدا ہوئے۔یہ امر بالکل ثابت شدہ ہے حضرت اماں جی (اہل بیت حضرت خلیفہ اول۔مؤلف ) بیمار تھیں ، لاہور ان سے ملنے گئی۔انہوں نے بھی یہی کہا کہ ہم سال بھر قریباً وہاں ٹھہرے تھے۔عبدالرحیم خاکی ہمارے سامنے پیدا ہوئے۔دوسری بار کے جانے کی تاریخ اُن کے علم میں بھی نہیں۔اُس وقت غالبا تنہا تھے۔عیال ساتھ نہ تھے۔حضرت اُمّاں جان (أم المؤمنین ) کے نام بھی آپ کا خط ملا۔آپ بہت ضعیف ہو چکی ہیں۔کسی وقت تو کچھ بات یاد آ جاتی ہے کبھی کچھ نہیں۔ان کو اکثر ضعف رہتا ہے۔زیادہ بات چیت بھی نہیں فرماسکتیں۔اے اللہ ! تو انہیں اور جملہ صحابہ کو دیر تک صحت و عافیت کے ساتھ ہمارے سروں پر سلامت رکھ۔(آمین۔مؤلف)۔صرف اتنا دریافت کرنے پر فرمایا کہ کوٹلہ سے بلوایا تھا۔جب تم پیدا ہوئی تھیں۔تفاصیل وہ بیان نہیں کر سکتیں۔اس سے زیادہ اس وقت تک کچھ معلوم نہیں ہوسکتا۔شاید کسی کاغذ وغیرہ سے کبھی پتہ لگ سکے۔ترجمہ قرآن شریف اس اثناء میں ختم ہو چکا تھا یہ مجھے میاں (مراد حضرت نواب صاحب ہیں۔مؤلف) سے