اصحاب احمد (جلد 2) — Page 71
71 اندر داخل نہ ہونے دیا اور صحابہ پانچ چھ ہزار سے کم نہیں تھے۔یہ امر کس قدر معرکہ کا امر تھا مگر خدائے تعالیٰ نے صادقوں کو بچایا مجھے اور میرے خاص دوستوں کو آپ کے اس خط سے اس قدر افسوس ہوا کہ اندازہ سے زیادہ ہے۔یہ کلمہ آپ کا کہ ”مجھے ہلاک کیا کس قدر اس اخلاص سے دور ہے جو آپ سے ظاہر ہوتا رہا۔ہمارا تو یہ مذہب ہے کہ اگر ایک مرتبہ نہیں کروڑ مرتبہ لوگ پیش گوئی نہ سمجھیں یا اس رات کے طور پر ظاہر ہو تو خدائے تعالیٰ کے صادق بندوں کا کچھ بھی نقصان نہیں آخر وہ فتح یاب ہو جاتے ہیں۔میں نے اس فتح کے بارے میں لا ہو ر پانچ ہزار اشتہار چھپوایا ہے اور ایک رسالہ تالیف کیا ہے جس کا نام انوار الاسلام ہے وہ بھی پانچ ہزار چھپے گا۔آپ ضرور اشتہار اور رسالہ کو غور سے پڑھیں اگر خدا تعالیٰ چاہے تو آپ کو اس سے فائدہ ہوگا۔ایک ہی وقت میں اور ایک ہی ڈاک میں آپ کا خط اور حضرت مولوی نورالدین صاحب کا خط پہنچا۔مولوی صاحب کا اس صدق اور ثبات کا خط جس کو پڑھ کر رونا آتا تھا ایسے آدمی ہیں جن کی نسبت میں یقین رکھتا ہوں کہ اس جہان میں بھی میرے ساتھ ہوں گے اور اس جہاں میں بھی میرے ساتھ ہوں گے۔خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ ( مکتوب نمبر۷ ) طلب ثبوت نا پسندیدہ نہیں حضرت نواب صاحب نے جو کچھ آتھم کی پیش گوئی کے تعلق میں لکھا اس سے آپ کی اعلی اخلاقی جرات کا ضرور اندازہ ہوتا ہے حضرت اقدس کے اس مکتوب ( نمبر ۱۰) پر مکرم عرفانی صاحب تحریر فرماتے ہیں: حضرت نواب صاحب نے جس جرات اور دلیری سے اپنے شکوک کو پیش کیا ہے۔اس سے حضرت نواب صاحب کی ایمانی اور اخلاقی جرات کا پتہ لگتا ہے۔انہوں نے کسی چیز کو اندھی تقلید کے طور پر مانا نہیں چاہا جو شبہ پیدا ہوا اس کو پیش کر دیا۔خدائے تعالیٰ نے جو ایمان انہیں دیا ہے وہ قابل رشک ہے۔خدائے تعالیٰ نے اس کا اجر انہیں یہ دیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے نسبت فرزندی کی عزت نصیب ہوئی۔یہ موقعہ نہیں کہ حضرت نواب صاحب کی قربانیوں کا میں ذکر کروں جو انہوں نے سلسلہ کے لئے کی تھیں : اس مکتوب پر کوئی تاریخ درج نہیں لیکن چونکہ اشتہار ایک ہزار انعام والا ۹ ستمبر ۱۸۹۴ء کو اور انوار الاسلام ۵ ستمبر کو تصنیف ہوئے مکتوب سے ظاہر ہے کہ اشتہار چھپ چکا تھا اور گورسالہ پہلے لکھا گیا تھا لیکن ابھی چھپنا باقی تھا اس لئے اس مکتوب کی تاریخ و ستمبر کے قریب کی ہوگی اور یہ نواب صاحب کے سے ستمبر کے مرقومہ خط کا جواب ہے۔