اصحاب احمد (جلد 2) — Page 40
40 40 امور مُستَفسَرَہ کا اطمینان بخش جواب پا کر نواب صاحب نے بلا تامل نومبر ۱۸۹۰ء میں بیعت کا خط لکھ دیا۔بقیہ حاشیہ: - آسکتا ہے مگر ولایت اور امامت اور خلافت کی ہمیشہ قیامت تک راہیں کھلی ہیں اور جس قدر مہدی دنیا میں آئے یا آگے آئیں گے ان کا شمار خاص اللہ جل شانہ کو معلوم ہے وحی رسالت ختم ہو گئی مگر ولایت و امامت و خلافت حقہ کبھی ختم نہیں ہوگی یہ سلسلہ ائمہ راشدین اور خلفاء رہا مین کا کبھی بند نہیں ہوگا۔کسی کو گذشتہ لوگوں میں سے بجز رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے جمیع فضائل و کمالات میں بے مثل نہیں کہہ سکتے اور ممکن نہیں کہ کسی کمال یا کسی نوع کی خدمت گزاری میں آئندہ اس سے بہتر پیدا ہو۔ہاں ! جزئی فضیلت کے لحاظ سے بعض لوگ بے مثل ٹھہر سکتے ہیں جیسے صحابہ اور اہلیت کی یہ فضلیت جو انہوں نے زمانہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پایا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تنہائی کے وقت میں ایسی وفاداری دکھلائی کہ اپنے خونوں کو پانی کی طرح بہا دیا آنحضرت کے چہرہ مبارک کو دیکھا اور اس چہرہ سے عاشقانہ طور پر زندگی بسر کی اور اسلام پر پہلے پہل مخالفوں کے حملے ہوئے تو اپنی جانوں کو ہتھیلی پر رکھ کر ان کو روکا اور اسلام کو زمین پر جمایا اور اسلامی ہدایتوں کو زمین پر پھیلایا اور کفر کے زور کو مٹایا اور قرآن شریف کو دیانت اور امانت سے جمع کر کے تمام ملکوں میں رواج دیا اور اسلام کی صداقت پر اپنے خون سے مُہر میں کر کے اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔بلاشبہ ان کی اس فضیلت کو بعد میں آنے والے نہیں پاسکتے و ذلك فضل الله يؤتيه من يشاء مگر اس کے سوا ہر ایک کمال کے حاصل کرنے کے لئے در و دروازے کھلے ہیں۔خدا تعالیٰ کے مقبول اور نہایت اعلیٰ درجے کے پیارے بندے اور امام الوقت اور خلیفتہ اللہ فی الارض اب بھی ایسے ہی ہوتے ہیں جیسے پہلے ہوئے تھے اور اب بھی خدا تعالیٰ کے انعام واکرام کی وہ راہیں کھلی ہیں جو پہلے کھلی تھیں۔کمالات نبوت ورسالت بھی ظلمی طور پر حاصل ہو سکتے ہیں جس قد ر سالک کی استعداد ہوگی ضرور پر تو نور کا پڑے گا۔زندہ اسلام اسی عقیدہ کا نام ہے مگر جو لوگ امامت وخلافت وصد یقیت کو پہلے اماموں پر ختم کر چکے ہیں ان کے ہاتھ میں اب مردہ اسلام ہے یا یوں کہو کہ اسلام کی بیجان تصویر ان کے ہاتھ میں ہے۔یا د رکھنا چاہئیے کہ جو مذہب آئندہ کمالات کے دروازے بند کرتا ہے وہ مذہب انسانی ترقی کا دشمن ہے۔قرآن شریف کی رُو سے انسان کی بھاری دُعا یہی ہے کہ وہ روحانی ترقیات کا خواہاں ہو غور سے پڑھنا چاہئیے اس آیت کو اهدنا الصراط المستقم صراط الذین انعمت علیھم دوسرے یہ عقیدہ بھی ضروری ہے کہ مجرد کسی قسم کے رشتہ سے خواہ کسی رسول سے رشتہ ہو ، کوئی فضیلت حاصل نہیں ہوسکتی بلکہ فقط رشتہ کی فضیلت پر ناز کرنا نا مردوں کا کام ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ اور ذوالقربی میں سے ہر ایک شخص جو قابل تعریف ہے وہ رشتہ کے لحاظ سے ہرگز نہیں وقال اللہ تعالیٰ ان اكرمكم عند الله اتقاكم۔