اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 699 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 699

699 ۵- جناب خلیفہ محمد حسن صاحب وزیر ریاست پٹیالہ دام اقبالهم “ اشاعۃ السنہ کی طرف سے اس ذکر پر انہی ایام میں حضرت اقدس نے نواب صاحب چھتاری کو مدد کے لئے توجہ دلائی تھی چنانچہ حضور ۲۱ جون ۱۸۸۳ء کے مکتوب میں میر عباس علی صاحب لدھیانوی کو تحریر فرماتے ہیں: ابتداء میں جب یہ کتاب چھپنی شروع ہوئی تو اسلامی ریاستوں میں توجہ اور مدد کے لئے لکھا گیا تھا بلکہ کتا بیں بھی ساتھ بھیجی گئی تھیں۔سو اس میں سے صرف ابراہیم علی خان صاحب نواب مالیر کوٹلہ اور محمود علی خان صاحب رئیس چھتاری اور مدارالمہام جونا گڑھ نے کچھ مدد کی تھی۔“ گویا کہ حضرت اقدس نے جلد اول نواب صاحب کو ارسال فرمائی تھی۔مزید تصدیق کہ ضلع بلند شہر کے یہی وہ رئیس ہیں جنہوں نے اپنا نام ظاہر کرنے سے منع کر دیا تھا اس امر سے بھی ہوتی ہے کہ دیگر معاونین کے اسماء تو حضرت اقدس نے شائع فرما دئے۔اگر نواب صاحب چھتاری وہی رئیس نہ تھے تو ان کا نام کیوں نہ شائع فرمایا۔بلکہ صرف ایک پرائیویٹ مکتوب تک ان کا ذکر محدود رکھا گیا۔جس سے صاف ظاہر ہے کہ یہی وہ رئیس تھے۔ج - سردار عطر سنگھ صاحب رئیس لدھیانہ۔ان کے متعلق چند سطور میں ایک نوٹ صفحہ ۳۸ میں دیا گیا ہے۔راقم نے ذیل کے کوائف اور ان کی تصویر ان کے نبیرہ سردار گور دیال سنگھ صاحب سے حاصل کئے ہیں۔آپ کا پورا نام مع القاب ملاذ العلماء والفضلاء۔مہا مہو پادھیائے سردار عطر سنگھ صاحب کے سی۔ایس۔آئی رئیس بھڈ ور تھا۔ولادت ۱۸۳۳ ء وفات ۱۸۹۶ء۔اپنے والد کے اکلوتے بیٹے تھے جن سے آپ نے بتیس ہزار بیگھہ اراضی اور پینتیس ہزار روپے کی جاگیر ورثہ میں پائی تھی۔ریاست پٹیالہ کی طرح ان کی بھی ریاست تھی لیکن ۱۸۵۶ء کے بعد چھوٹے راجے جاگیردار قرار دے دئے گئے تھے۔سردار عطر سنگھ صاحب کی مساعی سے خالصہ کالج بنا تھا۔وہ کسی خاص فرقہ سے تعلق نہ رکھتے تھے۔سردار گور دیال سنگھ صاحب تحریر کرتے ہیں کہ حضرت منشی عمر الدین صاحب میرے دادا کے ۱۸۶۶ء سے ۱۸۹۶ء تک قریباً تمیں سال ملازم رہے۔وہ دیانتدار ، مضبوط کیرکٹر کے مالک ، مذہب کے دلدادہ، ملنسار اور اپنے آقا کے بہت وفادار تھے۔وہ لائیبریری جس میں حضرت منشی صاحب کام کرتے تھے سر موصوف کی وفات پران کی وصیت کے مطابق پبلک لائیبر میری میں شامل کر دی گئی تھی۔