اصحاب احمد (جلد 2) — Page 697
697 قیمت میں سوسور و پیہ بھیجا ہے۔اور ایک عہدہ دار محمد افضل خان نام نے ایک سودس اور نواب صاحب کوٹلہ مالیر نے نسخہ کی قیمت میں سوروپیہ بھیجا۔اور سردار عطر سنگھ صاحب رئیس اعظم لدھیانہ نے کہ جو ایک ہندور کیس ہیں۔اپنی عالی ہمتی اور فیاضی کی وجہ سے بطور اعانت ۲۵ روپے بھیجے ہیں۔“ سوخا کسار عرض کرتا ہے کہ الف- نواب اقبال الدولہ کا پورا نام مع خطابات اقبال الدولہ اقتدار الملک قیصر ہندسر وقارالامراء نواب محمد فضل الدین خان سکندر جنگ بہادر کے سی۔آئی۔ای تھا۔آپ امیر کبیر شمس الا مراء نواب رشید الدین خان بہادر کے فرزند اور نواب سکندر جاہ بہا در نظام سوم کے پوتے۔موجودہ نظام دکن کے بہنوئی۔نواب سرخورشید جاہ بہادر امیر کبیر کے چھوٹے بھائی اور نواب سر آسمان جاہ بہادر کے عم زاد بھائی تھے۔ولادت ۲۳ محرم ۱۲۳۰ھ وفات ۶ / ذیقعده ۱۳۱۹ ء۔نواب افضل الدولہ بہادر نظام دکن کی وفات پر نواب میر محبوب علی خاں بہادر کی صغرسنی کے باعث نواب اقبال الدولہ گارڈین مقرر ہوئے۔آپ نے یورپ کا سفر کیا۔ملکہ وکٹوریہ کے ہاں دعوت کھائی۔اس سفر سے شہرت بہت بڑھی۔براہین احمدیہ کا ذکر ایک ایسی مجلس میں ہوتا رہتا تھا جس میں مرزا صادق علی بیگ صاحب ظہور علی صاحب وکیل اور ایک حکیم صاحب شامل ہوتے تھے۔ان میں سے کسی نے نواب صاحب موصوف کو چندہ کی تحریک کردی اور انہوں نے ایک سو روپیہ دے دیا۔نواب صاحب کے تمول کے پیش نظر یہ رقم بہت قلیل تھی۔ان کے تمول کا علم اس سے ہوتا ہے کہ ان کی شادی پر جانبین سے لاکھوں روپیہ خرچ ہوا۔ان کی اسٹیٹ پائے گا تیرہ سو نوے مربع میل میں تھی۔جس کی مردم شماری ۱۹۰۱ء میں قریباً اڑھائی لاکھ تھی اور یہ سب آپ کی رعایا تھے۔وہاں پینتالیس ہزار مکانات تھے۔اسٹیٹ کی سالانہ آمد تیرہ لاکھ روپیہ تھی۔آپ کو عمدہ عمارات کی تعمیر کا شوق تھا چنانچہ حیدر آباد کا قصر فلک نما آپ نے نو سال میں چالیس لاکھ روپیہ کے صرفہ سے تعمیر کروایا تھا۔طبیعت سخاوت پسند تھی۔کسی کو خالی نہ جانے دیتے تھے۔پچاس یا سور و پہیہ سے کم دینے کے عادی نہ تھے۔گو آپ کے تمول کے پیش نظر ایک سوروپیہ کی اعانت زیادہ حیثیت نہ رکھتی تھی لیکن اکثر رؤسا نے جو سلوک کیا تھا اس کے پیش نظر قابل قدرتھی اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی اس اعانت کو قدر کی نگاہ سے دیکھا۔گواحمدیت کے متعلق کسی مرحلہ پر بھی نواب صاحب کو کوئی خیال نہ تھا لیکن اس اعانت کے تعلق میں اللہ تعالیٰ نے بھی نواب صاحب موصوف کا قرض نہیں رکھا اور انہیں بے بہا مال و دولت کے رنگ