اصحاب احمد (جلد 2) — Page 685
685 نے ایک لازمی امر ٹھہرایا ہوا ہے۔لیکن بے قرار نہیں ہونا چاہئے۔کہ کیوں اس کا اثر ظاہر نہیں ہوتا۔دعاؤں کے لئے تاثیرات ہیں اور ضرور ظاہر ہوتی ہیں۔جب دیر سے دعا قبول ہوتی ہے۔تو عمر زیادہ کی جاتی ہے۔اور جب جلد کوئی مرا مل جاتی ہے تو کمی عمر کا اندیشہ ہے۔میں اس بات کو دوست رکھتا ہوں کہ ایک مطلب کے حصول کی بشارت خدا تعالیٰ کی طرف سے سن لوں لیکن وہ مطلب دیر کے بعد حاصل ہونا موجب طول عمر ہو۔کیونکہ طول عمر اور اعمال صالحہ بڑی نعمت ہے۔“ ۱۳ ۱۱ نومبر ۱۸۹۸ء کو تحریر فرماتے ہیں: ۴۹۵ ” خدائے تعالیٰ فرزند نوزاد کو مبارک اور عمر دراز کرے۔آمین ثم آمین۔۔۔۔لڑکے کے بدن پر تیل ملتے رہتے ہیں۔حافظ حقیقی خود حفاظت فرما دے اور آپ کے لئے مبارک کرے۔آمین ثم آمین۔دعا میں آپ کے لئے مشغول ہوں۔اللہ تعالیٰ قبول فرما دے۔“ ۱۴- ایک مکتوب میں تحریر فرماتے ہیں : انشاء اللہ تعالیٰ آپ کی بیوی مرحومہ کے لئے توجہ اور الحاح سے دعائے مغفرت کروں گا۔“ ۴۹۷ ۱۵- نومبر ۱۸۹۸ء میں حضور تحریر فرماتے ہیں: آج صدمہ عظیم کی تار مجھے کو لی۔انا للہ وانا اليه راجعون۔اللہ تعالیٰ آپ کو صبر جمیل عطا فرما دے اور اس کے عوض آپ کو کوئی بھاری خوشی بخشے۔میں اس درد کو محسوس کرتا ہوں جو اس ناگہانی مصیبت سے آپ کو پہنچا ہوگا اور میں دعا کرتا ہوں کہ آئندہ خدا تعالیٰ ہر ایک بلا سے آپ کو بچائے اور پردہ غیب سے اسباب راحت آپ کے لئے میسر کرے۔اس وقت آپ کے درد سے دل دردناک ہے اور سینہ غم سے بھرا ہے۔آپ کے گھر کے لوگوں کے لئے مجھے دعا کا موقعہ بھی نہ ملا۔تاریں بہت بے وقت پہنچیں۔اب میں یہ خط اس نیت سے لکھتا ہوں کہ آپ پہلے ہی بہت نحیف ہیں۔میں ڈرتا ہوں کہ بہت غم سے آپ بیمار نہ ہو جائیں۔اب اس وقت آپ بہادر بنیں اور استقامت دکھلائیں۔۔۔میں آپ کو نصیحت کرتا ہوں کہ غم کو دل پر غالب