اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 672 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 672

672 قادیان میں جب وہ ملنے کے لئے آئے تھے اور کئی دن رہے پوشیدہ نظر سے دیکھتا رہا ہوں کہ التزام ادائے نماز میں ان کو خوب اہتمام ہے۔اور صلحاء کی طرح توجہ اور شوق سے نماز پڑھتے ہیں۔اور منکرات اور مکروہات سے بکلی مجتنب ہیں۔مجھے ایسے شخص کی خوش قسمتی پر رشک ہے جس کا ایسا صالح بیٹا ہو کہ باوجود بہم پہنچنے تمام اسباب اور وسائل غفلت اور عیاشی کے اپنے عنفوان جوانی میں ایسا پر ہیز گار ہو۔معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے بتو فیقہ تعالے خود اپنی صلاح پر زور دے کر رئیسوں کے بیجا طر یقوں اور چلنوں سے نفرت پیدا کر لی ہے اور نہ صرف اسی قدر بلکہ جو کچھ نا جائز خیالات اور اوہام اور بے اصل بدعات شیعہ مذہب میں ملائی گئی ہیں اور جس قدر تہذیب اور صلاحیت اور پاک باطنی کے مخالف ان کا عملدرآمد ہے ان سب باتوں سے بھی اپنے نور قلب سے فیصلہ کر کے انہوں نے علیحدگی اختیار کر لی ہے۔66 ۱۸۹۱ء میں حضرت اقدس نواب صاحب کو تحریر فرماتے ہیں : آپ کا محبت نامہ عین انتظار میں مجھ کو ملا جس کو میں نے تعظیم سے دیکھا اور ہمدردی اور اخلاص کے جوش سے حرف حرف پڑھا۔میری نظر میں طلب ثبوت اور استنکشاف حق کا طریقہ کوئی ناجائز اور ناگوار طریقہ نہیں ہے بلکہ سعیدوں کی یہی نشانی ہے کہ وہ ورطہ مذبذبات سے نجات پانے کے لئے حل مشکلات چاہتے ہیں۔لہذا یہ عاجز آپ کے اس طلب ثبوت سے نا خوش نہیں ہوا۔بلکہ نہایت خوش ہے کہ آپ میں سعادت کی وہ علامتیں دیکھتا ہوں۔جس سے آپ کی نسبت عرفانی ترقیات کی امید بڑھتی ہے۔۴۷۲ ستمبر ۱۸۹۴ء میں حضور نواب صاحب کو تحریر فرماتے ہیں: ”میرے ظاہری الفاظ صرف اس غرض سے تھے کہتا میں لوگوں پر یہ ثبوت پیش کروں کہ آں محبت اپنے دلی خلوص کی وجہ سے نہایت استقامت پر ہیں سوال حمدا لله کہ میں نے آپ کو ایسا ہی پایا میں آپ سے ایسی محبت رکھتا ہوں جیسا کی اپنے فرزند عزیز سے محبت ہوتی ہے“۔۱۲ مارچ ۹۸ء کو حضور نواب صاحب کو تحریر فرماتے ہیں: ” میری طبیعت آپ کی سعادت اور رشد پر بہت خوش ہے اور امید رکھتا ہوں کہ آپ اپنی تمام جماعت کے بھائیوں میں سے ایک اعلیٰ نمونہ ٹھہریں گئے۔