اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 671 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 671

671 اور حق کی روشنی دکھلا۔پیار و یقیناً سمجھو کہ خدا ہے اور وہ اپنے دین کو فراموش نہیں کرتا۔بلکہ تاریکی کے زمانہ میں اس کی مدد فرماتا ہے۔مصلحت عام کے لئے ایک کو خاص کر لیتا ہے اور اس پر علوم لدنیہ کے انوار نازل کرتا ہے۔سواسی نے مجھے جگایا اور سچائی کے لئے میرا دل کھول دیا۔میری روزانہ زندگی کا آرام اسی میں ہے کہ میں اسی کام میں لگار ہوں بلکہ میں اس کے بغیر جی ہی نہیں سکتا کہ میں اس کا اور اس کے رسول کا اور اس کی کلام کا جلال ظاہر کروں۔مجھے کسی کی تکفیر کا اندیشہ نہیں اور نہ کچھ پروا۔میرے لئے یہ بس ہے کہ وہ راضی ہو جس نے مجھے بھیجا ہے۔ہاں میں اس میں لذت دیکھتا ہوں کہ جو کچھ اس نے مجھ پر ظاہر کیا۔وہ میں سب لوگوں پر ظاہر کروں اور یہ میرا فرض بھی ہے کہ جو کچھ مجھے دیا گیا وہ دوسروں کو بھی دوں اور دعوت مولیٰ میں ان سب کو شریک کرلوں جو ازل سے بلائے گئے ہیں۔میں اس مطلب کے پورا کرنے کے لئے قریباً سب کچھ کرنے کے لئے مستعد ہوں اور جانفشانی کے لئے راہ پر کھڑا ہوں لیکن جو امر میرے اختیار میں نہیں میں خدا وند قدیر سے چاہتا ہوں کہ وہ آپ اس کو انجام دیوے۔میں مشاہدہ کر رہا ہوں کہ ایک دست غیبی مجھے مدد دے رہا ہے اور اگر چہ میں تمام فانی انسانوں کی طرح نا تواں اور ضیعف البنیان ہوں تاہم میں دیکھتا ہوں کہ مجھے غیب سے قوت ملتی ہے اور نفسانی قلق کو دبانے والا ایک صبر بھی عطا ہوتا ہے۔اور میں جو کہتا ہوں کہ ان الہی کاموں میں قوم کے ہمدرد مدد کریں وہ بے صبری سے نہیں بلکہ صرف ظاہر کے لحاظ اور اسباب کی رعایت سے کہتا ہوں۔ورنہ خدا تعالیٰ کے فضل پر میرا دل مطمئن ہے اور امید رکھتا ہوں کہ وہ میری دعاؤں کو ضائع نہیں کریگا۔اور میرے تمام ارادے اور امید میں پوری کر دیگا۔اب میں اُن مخلصوں کا نام لکھتا ہوں جنہوں نے حتی الوسع میرے دنی کاموں میں میری مدددی یا جن پر مدد کی امید ہے یا جن کو اسباب میسر آنے پر طیار د یکھتا ہوں“۔ان اسماء کے ذیل میں آٹھویں نمبر پر نواب صاحب کے خاندانی حالات کا تذکرہ کر کے حضور تحریر فرماتے ہیں: بہادر خان کی نسل میں سے یہ جوان صالح خلف رشید نواب غلام محمد خان صاحب مرحوم ہے جس کا عنوان میں ہم نے نام لکھا ہے۔خدا تعالیٰ اس کو ایمانی امور میں بہادر کرے اور اپنے جد شیخ بزرگوار صدر جہاں کے رنگ میں لاوے۔سردار محمد علی خان صاحب نے گورنمنٹ برطانیہ کی توجہ اور مہربانی سے ایک شائستگی بخش تعلیم پائی جس کا اثر ان کے دماغی اور دلی قومی پر نمایاں ہے ان کی خدا دا د فطرت بہت سیلیم اور معتدل ہے اور باوجود عین شباب کے کسی قسم کی حدت اور تیزی اور جذبات نفسانی ان کے نزدیک آ ئی معلوم نہیں ہوتی ہیں۔